بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

غصہ میں پانچ بار کہنا”زہ تا لہ طلاق درکوم“


سوال

ایک شخص  اپنی  بیوی کو غصہ کے حالت میں پانچ مرتبہ پشتو زبان میں کہے ''زہ تالہ طلاق درکوم''(میں آپ کو طلاق دیتا ہوں(،اس مسئلہ میں شرعی رہنمائی فرمائیں ۔نیز یہ واضح کریں کہ یہ الفاظ پشتو میں ماضی ، حال یا استقبال میں سے کس زمانہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں ؟

جواب

جب شوہر بیوی کو ایسے صریح الفاظ سے طلاق دے جو ماضی یا حال پر دلالت کرنے والے ہوں تو ان سےطلاق واقع ہوجاتی ہے  اور اگر ایسے الفاظ سے طلاق دے جو مستقبل پر دلالت کرنے والے ہوں تو ان سے طلاق واقع نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ''زہ تالہ طلاق درکوم''پشتومیں حال کے معنی پر دلالت کرنے والے ہیں ،لہذا اگر کسی نے پانچ مرتبہ یہ الفاظ بیوی کو استعمال کیے  تو بیوی پر تین  طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ کے ساتھ شوہر پر حرام ہوگی۔مستقبل کے لیے پشتو میں اس جملے کے اندر”بہ“   کا اضافہ کیا جاتا ہے یعنی اس طرح کہتے ہیں کہ''زہ بہ تالہ طلاق درکوم''۔

 

(صريحه مالم يستعمل إلا فيه) ولوبا الفارسية.قال ابن عابدين:فما لايستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلانية.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،باب الصريح،ج:4،ص:457)

في المحيط ‌لو ‌قال ‌بالعربية ‌أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا.(الفتاوى الهندية،ج:1،ص: 384،دار الفكر،بيروت)

(قوله وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: ‌كوني ‌طالقا ‌واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك.( رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،باب الصريح،ج:3،ص:248،دار الفكر،بيروت)


فتویٰ نمبر : 6759/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور