بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرم گاہ کو بوسہ دینا
سوال
کیا بیوی اپنے شوہر کے ذکر کو منہ میں لے سکتی ہے جبکہ منی منہ میں نہ نکالے اور بیوی بھی خوشی سے لیتی ہو اسی طرح شوہر بیوی کی فرج کے دائیں بائیں بوس کنار کر سکتا ہے اور کیا فرج کے اوپر بھی کرسکتا ہےیانہیں ؟کیوں کہ آج کل یہ سب ہو رہا ہے تو اسکا شرعی حکم کیاہے ؟
جواب
واضح رہے کہ میا ں بیوی کا آپس میں ایک دوسرے کی شرمگاہ کو بوسہ دینا یا چاٹنا غیر شریفانہ اور غیر مہذب عمل ہے،شریعت میں جماع کے کچھ آداب ہیں ،مثلابقدر ضرورت ستر کھولا جائے،بالکل ننگا ہو کر جماع نہ کیا جائے اور نہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کو بلا ضرورت دیکھا جائے ۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق شوہر کا بیوی کو ذکر منہ میں دینا ایک غیر اخلاقی اور نامناسب عمل ہے اس سےنجاست غلیظہ کا منہ میں جانے کا قوی امکان ہے ۔اسی طرح شوہر کا بیوی کی فرج کو بوسہ دینا بھی غیر شریفانہ اور مکروہ عمل ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
في النوازل إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة.(الفتاوي الهندية،الباب الثلاثون في المتفرقات ،ج:5،ص:372)
أذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته فقد قيل :يكره ؛لأنه موضع قراءةالقرآن،فلايليق به ادخال الذكر فيه ،وقدقيل بخلافه.(المحيط البرهاني،الفصل الثاني ولثلاثون في المتفرقات ،ج:5،ص:297)