بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ٹچ موبائل استعمال کرنا


سوال

 آجکل ہر انسان کے ساتھ Android (ٹچ)موبائل موجود ہوتے ہیں اور اس موبائل میں فیس بک، یوٹیوب، واٹس ایپ، ٹک ٹاک، انسٹاگرام، اور ٹویٹر، وغیرہ موجود ہوتے ہیں، اور اس موبائل میں فلمز، ڈرامے اور غیرمحرم عورتوں کی تصاویردیکھتے ہیں تو کیا یہ شخص مومن مسلمان ہو سکتا ہے؟

جواب

ٹچ موبائل کے استعمال کا جواز اور عدمِ جواز  اس کے جائز اور ناجائز استعمال پر موقوف ہے، لہذاگر  شرعی حدود میں رہتے ہوئے ٹچ موبائل کا استعمال کیا جائے اور جاندار اشیاءکی  تصویر کشی  اور دیگر طریقوں سے اس  کے منفی استعمال سے بچتے ہوئے ٹچ موبائل استعمال کیاجائے، تو  اس کا استعمال جائز ہے، لیکن اگر ٹچ موبائل کے استعمال میں شرعی حدود کا لحاظ نہ رکھا جائے ، اور اس کے منفی استعمال سے نہ بچا جائے، تو ایسی صورت میں اس کا استعمال ناجائز ہوگا۔نیز چونکہ اس میں ناجائز امور کا غلبہ ہے اس لیے بلاضرورت اس کے استعمال سے بچنا ہی بہتر ہے۔ تا ہم اگر  کوئی اس کا منفی استعمال  کرے تواس کی وجہ سے گناہ گار  ضرور ہوگا لیکن اس كی وجہ سے  دائرہ اسلام سےخارج نہیں ہوتا۔

 

عن ‌النعمان بن بشير قال: « سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول (وأهوى النعمان بإصبعيه إلى أذنيه): ‌إن ‌الحلال ‌بين وإن الحرام بين، وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس، فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام، كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا وإن حمى الله محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة، إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب .»(صحيح المسلم،باب أخذ الحلال وترك الشبهات،ج:5،ص:50)

‌‌القاعدة الثانية: ‌الأمور ‌بمقاصدهاكما علمت في التروك. وذكر قاضي خان في فتاواه إن بيع العصير ممن يتخذه خمرا إن قصد به التجارة فلا يحرم وإن قصد به لأجل التخمير حرم وكذا غرس الكرم على هذا (انتهى)( الْأَشْبَاهُ وَالنَّظَائِرُ لإبن نجيم،‌‌القاعدة الثانية،ص:23)


فتویٰ نمبر : 5598/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور