بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جی پی فنڈپرقبضہ کرنےسےپہلےزکوۃ لینا


سوال

جس شخص کا جی پی فنڈ لاکھوں روپے میں حکومت کے پاس موجود ہو لیکن اس کے  پاس  اپناکچھ بھی نہ ہو اور وہ تنگدست ہو ،تو کیا وہ زکوة لے سکتا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ "جی پی فنڈ"وصول کرنے سے پہلے ملازم کو  اس  میں  مالکانہ تصرف کا اختیار حاصل نہیں ہوتا  ، اس لیے یہ دین ضعیف کے حکم میں ہوتا ہے ۔

لہذا صورت مسئولہ میں جی پی فنڈ کی رقم جب تک حکومت کے پاس ہو،تو وصولی سےقبل ملازم اس فنڈ کی وجہ سے غنی شمار  نہ ہوگا۔ اس لیے  اگر اس کےعلاوہ صاحب نصاب نہیں  تو اس کے لیےزکوۃ لینا جائزہے۔

 

(قوله: من له مال لا معه) أي سواء كان هو في غير وطنه أو في وطنه وله ديون لا يقدر على أخذها كما في النهر۔ ۔ ۔قال: وألحق به كل من هو غائب عن ماله وإن كان في بلده؛ لأن الحاجة هي المعتبرة وقد وجدت؛ لأنه فقير يدا وإن كان غنيا ظاهرا.)الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الزكاة، باب المصرف، ج:3، ص:290)

‌وأما ‌الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، أو بصنعه كما لوصية، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الكتابة ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض(بدائع الصنائع ،فصل في الشرائط اللتی ترجع الی المال ،ج2،ص392)


فتویٰ نمبر : 9795/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور