بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ايک روایت کی تحقیق
سوال
ایک روایت کے بارے میں تحقیق مطلوب ہے۔ایک مرتبہ موسی علیہ السلام نے اللہ رب العزت سے پوچھا میرے پروردگار اگر ساری دنیا آپ کی نافرمانی کرنے لگے تو آپ کیا کریں گے رب العالمین نے فرمایا کہ موسی میرے پاس ایک ایسی مخلوق ہے جو ایک لقمے میں ساری مخلوق کو کھا جائے گی تو پھر موسی علیہ السلام نے کہا اللہ وہ مخلوق کہاں ہے تو اللہ پاک نے کہا کہ وہ ہماری چرا گاہوں میں ہے پھر موسی علیہ السلام نے پوچھا یا اللہ وہ چراگاہ کہاں ہے تو اللہ پاک نے فرمایا کہ وہ ہمارے علم میں ہے۔
جواب
مذکورہ واقعہ تفسیر روح البیان ،تفسیر الکشف والبیان (ثعلبی)اور تفسیر قرطبی میں ذکر کیا گیا ہے۔ان تفاسیرکے علاوہ یہ واقعہ حدیث کی کسی مستندکتاب میں ہمیں نہیں ملا ،اور نہ ہی اس کی سند ملی۔نیزامام قرطبی نے بھی یہ واقعہ تفسیرثعلبی کے حوالے سے ذکر کیا ہےاورثعلبی روایات کے نقل کرنے میں محتاط نہیں بلکہ صحیح، ضعیف اور موضوعی ہر قسم کی روایات کو اپنی تفسیر میں ذکر کرتے ہیں ،اس وجہ سے مذکورہ واقعہ کو قطعی طور پر صحیح نہیں کہا جاسکتا ۔
وبلغنا أنّ بعض الأنبياء، قال: يا ربّ لو أنّ السّماوات والأرض حين قلت لهما ائتيا طوعا أو كرها عصياك، ما كنت صانعا بهما؟ قال: كنت آمر دابة من دوابي فتبتلعهما. قال: وأين تلك الدابة؟. قال: في مرج من مروجي. قال: وأين ذلك المرج؟ قال: في علم من علمي.(تفسير الثعلبي، سورة فصلت،الأية:11)
وفي حديث: إن موسى عليه الصلاة والسلام قال: يا رب لو أن السموات والأرض حين قلت لهما" ائتيا طوعا أو كرها" عصياك ما كنت صانعا بهما؟ قال كنت آمر دابة من دوابي فتبتلعهما. قال: يا رب وأين تلك الدابة؟ قال: في مرج من مروجي. قال: يا رب وأين ذلك المرج؟ قال علم من علمي. ذكره الثعلبي.( تفسير القرطبي،سورة فصلت،الأية:11)
وفى حديث (ان موسى عليه السلام قال يا رب لو ان السموات والأرض حين قلت لهما ائتيا طوعا او كرها عصیاك ما كنت صانعا بهما قال كنت آمر دابة من دوابى فتبتلعهما قال يا رب واين تلك الدابة قال فى مرج من مروجى قال واين ذلك المرج قال فى علم من علمى)(تفسیر روح البیان،سورة فصلت،الأية:11)
والثعلبي هو في نفسه كان فيه خير ودين، وكان حاطب ليل، ينقل ما وجد في كتب التفسير من صحيح وضعيف وموضوع.( مقدمة في أصول التفسير،في نوعي الإختلاف في التفسير،النوع الأول،ص:31)
كما فعل الثعلبي في تفسيره، فقد حشاه بالكثير من القصص الإسرائيلية، والروايات المكذوبة الموضوعة.( الإسرائيليات والموضوعات في كتب التفسير،مدارس التفسير،ص:74)