بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عفراءنام رکھنا


سوال

افرا اور افرہ نام رکھناکیسا ہے نیز عفراء کو افرا یا عفرہ یا افرہ پڑھناکیسا ہے ؟

جواب

ہر وہ نام جسے نبی کریمﷺ ، صحابہ کرامؓ  یا قرون ماضیہ میں علماءو صلحاء نے استعمال کیا ہو یا  وہ نام جو اسلامی  معاشرہ میں رائج ہواور اس کا معنی غلط نہ ہو تو ایسا نام رکھنا جائز ہے۔

صورتِ مسئولہ میں  عفراء عربی لفظ ہے،اس کامعنی ہے "سفید زمین" اورمہینہ کی تیرویں تاریخ کی شب کو بھی کہتےہیں۔نیز''عفراء بنت عبید بن ثعلبہ الانصاریہ''  رضی اللہ عنہا صحابیہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس لیے ان کی نسبت سے  یہ نام رکھنا درست اور باعث برکت ہے۔عفراء نام رکھ کر اگر کوئی اسےافراء پکارے تو اس کی گنجائش ہے تاہم  افراء نام نہ رکھاجائے۔

 

‌عفراء۔مؤنث أعفر.[ع ف ر]:الأرض البيضاء:الليلة الثالثة عشرةمن الشهر.(محيط المحيط،ج:6،ص:227)

الفراء،کحبل وسحاب :حمارالوحش،أو فتيه ج:أفراءوفراء.(القاموس المحيط،فصل الفاء،ص:48)

عفراء ‌بنت ‌عبيد بن ثعلبة بن سواد بن غنم بن مالك بن النجار الأنصارية أم معاذ ومعوذ وعوف، وبها تعرف أولادها، وكلهم من الأنصار.(اسدالغابۃفی معرفۃ الصحابۃ،عفراء بنت عبید،ج:7،ص:194)


فتویٰ نمبر : 5591/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور