بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پینے سے پہلے پانی کو دیکھنا


سوال

پینے سے پہلے پانی کو دیکھنا سنت ہے یا نہیں ؟

جواب

پانی پینے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ بیٹھ کر تین سانس میں پانی پیا جائے، پھر پانی  پینے کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ پینے سے پہلے اس کو دیکھ لیا جائے کیونکہ دیکھےبغیر پینے میں موذی چیز کےمنہ میں جانے کا اندیشہ ہوتا ہے چنانچہ حدیث میں مشکیزہ سے منہ لگاکر پانی پینے سے  ممانعت آئی ہے،جس کی علت یہی بتائی گئی ہے،لہذا پینے سے پہلے پانی کو دیکھنا آداب میں سے ہے،تاہم احادیث مبارکہ میں اس کا ذکر نہیں مل سکا کہ اس کو سنت کہا جاسکے۔

عن ثمامة بن عبد الله قال: «كان أنس يتنفس في الإناء مرتين أو ثلاثا، وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يتنفس ثلاثا.»(صحيح البخاري،باب الشرب بنفسين أو ثلاثة،رقم الحديث:5631،ج:2،ص:487)

نهى النبى، عليه السلام، عن الشرب من فم السقاء - أو القربة.ومعنى هذا النهى - والله أعلم - على وجه الأدب لجواز أن تكون فى أفواهها حية أو بعض الهوام لا يراها الشارب فيدخل فى حلقه،وقيل هذا أن النهى عن الشرب من فم السقاء نهى أدب، لا نهى تحريم، روى عن أبى سعيد الخدرى: (أن رجلا شرب من فى السقاء فانساب جان فى بطنه؛ فنهى رسول الله عن اختناث الأسقية) ، وهذا يدل أن من فعل ذلك أنه ليس بحرام عليه شربه.(شرح صحيح البخاري الإبن بطال المتوفى 449ه،باب الشرب من فم السقاء،رقم الحديث:44،ج:6؛ص:78)


فتویٰ نمبر : 5627/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور