بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
لفظ طلاق کے بجائے تلاک استعمال کرنا
سوال
میں نے تقریباً دو سال قبل اپنی بیوی کو پانچ مرےبہ کہا کہ " زہ تالہ تلاک درکوم" جس کی تفصیل یہ ہے کہ پہلے ایک دفعہ مذکورہ الفاظ کہے اور پھر رجوع بالفعل یا بالقول کیا۔ اس کے دو سال بعد گھریلو ناچاقی کی وجہ سے میں نے مذکورہ الفاظ کا استعمال کیا اور پھر رجوع کی۔ اس کے بعد تقریباًڈیڑھ ہفتہ پہلے دو دفعہ پھر یہ الفاظ کہے جا سے تا حال رجوع نہیں کیا ہے ۔ واضح رہے کہ میں نے لفظ "تلاک" کا استعمال کیا ہے "طلاق" کا نہیں ۔ جبکہ اس کے بارے میں میں نے کفایت المفتی کا مطالعہ کیا تھا ۔ اس وجہ سے مجھے معلوم تھا تو میں نے طلاق کے تلاک کا استعمال کیا ۔ نیز میرا یہ دعویٰ ہے کہ میرا مقصد اور نیت ہرگز طلاق دینے کی نہیں تھی۔ آنجناب سے درخواست ہے لفظ تلاک کا شریعت میں کیا حکم ہے؟
جواب
فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق لفظ طلاق کے حروف میں سے کسی حرف کو بدل کر ادا کرنے مثلا: طلاق کی طاء کو تاء سے یا قاف کو کاف سے تبدیل کر کے ادا کرنے کی صورت میں قضاءً وہی حکم ہوگا جو لفظ طلاق کا ہے چنانچہ اگر کسی نے بیوی کو لفظ "تلاک" کہا تو ایسی صورت میں قضاءً طلاق واقع ہو جائے گی جبکہ نیت و ارادہ کا اعتبار صرف دیانتاً کیا جا سکتا ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل نے طلاق کے لفظ کو بدل کر لفظ"تلاک"پر تکلم کیا ہو تو قضاءًاسکی طلاق واقع ہوچکی ہے ۔ البتہ اگر اس کو پہلے سے معلوم تھا اور اس بنا پر اس نے قصداً لفظ "تلاک" استعمال کیا ہو اور اس سے طلاق دینے کی نیت نہ کی ہو تو دیانتاً طلاق واقع نہ ہوگی۔ واضح رہے کہ کہ دیانت کا معاملہ بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوتا ہے۔
يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة۔ (الفتاوى الهندية،فصل فيمن يقع طلاقه و فيمن لايقع طلاقه،ج1،ص353)
رجل قال لامرأته ترا تلاق هاهنا خمسة ألفاظ تلاق وتلاغ وطلاغ وطلاك وتلاك عن الشيخ الإمام الجليل أبي بكر محمد بن الفضل رحمه الله تعالى أنه يقع وإن تعمد وقصد أن لا يقع،ولا يصدق قضاء ويصدق ديانة، إلا إذا أشهد قبل أن يتلفظ به۔ (الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الفصل الاول فى الطلاق الصريح،ج1،ص424)