بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
مدرسہ کے درختوں کا پھل استعمال کرنا
سوال
ہمارے مدرسہ میں آم بہت ہے کیا صدر مدرس کی اجازت سے آم توڑ سکتے ہیں ۔مدرسے کا اصل مالک کمیٹی ہے ،لیکن کمیٹی آم کے سلسلے میں کچھ نہیں بولتے اور مدرسے کے بچے آم توڑ کر کھاتےہیں اور صدر مدرس بھی آم کے سلسلےمیں خاموش ہی رہتےہیں تو کیا کوئی مدرس دو چار آم توڑ سکتے ہیں۔
جواب
واضح رہے کہ واقف کی شرط شارع کے نص کی طرح ہےیعنی جس طرح شریعت کے نص پر عمل کرنا ضروری ہےاسی طرح واقف کےشرط کی رعایت بھی ضروری ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر زمین وقف کرتے وقت یہ درخت موجود تھےاورواقف نے وقف کرتے ہوئےیہ نیت کی ہوکہ مدرسہ میں ہر شخص اس موقوفہ زمین کے درخت سے پھل کھا سکتا ہےتو سب کے لیے کھانے کی گنجائش ہے،لیکن اگر اس نے درختوں کے پھل مدرسہ کے مصارف میں صرف کرنے کی نیت کی ہوتو پھر مفت میں ان کو کھانے کی اجازت نہ ہوگی بلکہ ان کو بیچ کرقیمت مدرسہ میں خرچ کی جائے گی،البتہ اگر موقوفہ زمین میں درخت پہلے سے موجود نہ تھے بلکہ بعد میں اگائے گئے تو پھر اگانے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
لو كان في المقبرة أشجار وقت الوقف كان للورثة أن يقطعوها لأن موضعها لم يدخل في الوقف لأنه مشغول بها كما لو جعل داره مقبرة لا يدخل موضع البناء في الوقف بخلاف غير المقبرة فإن الأشجار والبناء إذا كانت في عقار وقفه دخلت في الوقف تبعا ولو نبتت فيها بعد الوقف إن علم غارسها كانت للغارس وإن لم يعلم فالرأي فيها إلى القاضي إن رأى بيعها وصرف ثمنها على عمارة المقبرة فله ذلك.(بحر الرائق شرح كنز الدقائق،كتاب الوقف،ج:5،ص:274)
وفي الحاوي :وما غرس في المساجد من الأشجار المثمرة إن غرس للسبيل وهو الوقف على العامة كان لكل من دخل المسجد من المسلمين أن يأكل منها وإن غرس للمسجد لا يجوز صرفها إلا إلى مصالح المسجد الأهم فالأهم كسائر الوقف وكذا إن لم يعلم غرض الغارس.(البحر الرائق،كتاب الوقف،341،342)