بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق کی دھمکی سے وقوع طلاق کا حکم


سوال

میرا سالے کے ساتھ کسی مسئلہ پر تنازع تھا ، میں نے کہا کہ "یہ تنازع ختم کرو ورنہ میں تیری بہن کو طلاق دے دوں گا" اب سوال یہ ہے کہ ان الفاظ سے کیا طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

           طلاق ماضی یا حال پر دلالت کرنے والے الفاظ سے واقع ہوتی ہے،جن الفاظ میں مستقبل میں طلاق  دینے کی دھمکی ہو  یا مستقبل میں طلاق دینے کے عزم کا اظہار ہو تو ایسے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

         صورت مسؤلہ میں سائل کا اپنے سالے سے  یہ کہنا کہ :" یہ تنازع ختم کرو ورنہ میں تیری بہن کو طلاق دے دوں گا" ان الفاظ میں مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی کا ذکر ہے  لہذا ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

 

صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال. (تنقيح الفتاوى الحامدية،كتاب الطلاق،ج:1، ص:38)

شرعا: (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (او المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل علي الطلاق. (درالمختار ، كتاب الطلاق، ج:4، ص: 424،426)


فتویٰ نمبر : 6622/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور