بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اذان کے وقت ہسپتال میں اذان کی ریکارڈنگ چلانے کا حکم


سوال

ایک شخص  ہسپتال میں پیشِ امام ہے ،وہاں شرعی مسجد نہیں ہے البتہ مصلی ہے،پوچھنا یہ ہے کہ وہاں آس پاس کی مساجد کی اذان کی آوازیں آتی ہیں تو وہاں ریکارڈنگ سے اذان دینا جائز ہے یا نہیں؟ بعض اوقات کوئی اذان دینے والا نہیں ہوتا۔

جواب

            سنت یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت عاقل ، بالغ یا سمجھ دار شخص اذان دے ، اذان کے وقت ریکارڈ شدہ اذان  چلا دینے سے اذان کی سنت ادا نہیں ہوگی۔

           لہذا صورتِ مسئولہ میں ہسپتال میں اگر اذان کے وقت اذان کی ریکارڈنگ چلائی جائےتو اس سے اذان کی سنت ادا نہیں ہوگی، چنانچہ اگر قرب وجوار میں کہیں اذان نہ ہوئی ہو، اور ہسپتال میں ریکارڈنگ والی اذان سے نماز پڑھی جاتی ہو،تو یہ نماز بغیر اذان کے شمار ہوگی۔ تاہم اگرقرب وجوار میں اذان ہوتی ہوتو اسی پر اکتفاءجائزہے۔

 

وذكر في البدائع أيضا ‌أن ‌أذان ‌الصبي الذي لا يعقل لا يجزي ويعاد؛ لأن ما يصدر لا عن عقل لا يعتد به كصوت الطيور... أن المقصود الأصلي من الأذان في الشرع الإعلام بدخول أوقات الصلاة ثم صار من شعار الإسلام في كل بلدة أو ناحية من البلاد الواسعة على ما مر، فمن حيث الإعلام بدخول الوقت وقبول قوله لا بد من الإسلام والعقل والبلوغ والعدالة.(الدرالمختار على صدر رد المحتار، ‌‌ ‌‌كتاب الصلاة، باب الأذان، ج:1، ص:394)

‌فلا ‌يكره ‌تركهما إذ أذان الحي يكفيه... (قوله: إذ أذان الحي يكفيه) لأن أذان المحلة وإقامتها كأذانه وإقامته؛ لأن المؤذن نائب أهل المصر كلهم كما يشير إليه ابن مسعود حين صلى بعلقمة والأسود بغير أذان ولا إقامة، حيث قال: أذان الحي يكفينا، وممن رواه سبط ابن الجوزي فتح: أي فيكون قد صلى بهما حكما، بخلاف المسافر فإنه صلى بدونهما حقيقة وحكما؛ لأن المكان الذي هو فيه لم يؤذن فيه أصلا لتلك الصلاة كافي. وظاهره أنه يكفيه أذان الحي وإقامته وإن كانت صلاته فيه آخر الوقت تأمل، وقد علمت تصريح الكنز بندبه للمسافر وللمصلي في بيته في المصر، فالمقصود من كفاية أذان الحي نفي الكراهة المؤثمة.(الدرالمختار على صدر رد المحتار، كتاب الصلاة، ‌‌باب الأذان، ج:1، ص:395)

ویکرہ أداء المکتوبۃ بالجماعۃ في المسجد بغیر أذان وإقامۃ، ولا یکرہ في البیوت والکروم وضیاع القریٰ؛ لأن أذان القریۃ والمصر أذان لہم، وإن أذنوا کان أولیٰ.(الفتاویٰ التاتارخانیۃ،ج:2، ص:152)


فتویٰ نمبر : 9408/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور