بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
زخم سے نكلے ہوئے خون کو صاف کرنا
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کے زخم سے خون نکلے اور کسی کپڑے وغیرہ سے اس کو صاف کرے حالانکہ خون نے مذکورہ زخم سے تجاوز نہ کیا ہو تو ایسی صورت میں وضوء کا کیا حکم ہے؟
جواب
زخم سے خون نکلے اور بہنے لگے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تا ہم اگر کسی شخص کے زخم سے خون ظاہر ہوا اور اس نے خون کو صاف کیا پھر اس کے بعد خون ظاہر نہ ہوا اور یہ خون اتنی قلیل مقدار میں تھا کہ وہ بہنے والا نہ تھا تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ لیکن اگر خون نکلتا رہا اور وہ اس کو مسلسل کپڑے وغیرہ سے صاف کرتا رہا تو یہ صاف شدہ خون اگر اتنی مقدار تک پہنچ جائے کہ بہنے کے قابل ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور اگر بہنے کے بقدر نہ ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔
ذكر محمد - رحمه الله تعالى - في الأصل إذا خرج من الجرح دم قليل فمسحه ثم خرج أيضا ومسحه فإن كان الدم بحال لو ترك ما قد مسح منه سال انتقض وضوءه وإن كان لا يسيل لا ينتقض وضوءه وكذلك إن ألقى عليه رمادا أو ترابا ثم ظهر ثانيا وتربه ثم وثم فهو كذلك يجمع كله. كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الفصل الخامس في نواقض الوضوء، ج:1، ص:11)