بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کاروبار میں لگائی گئی ادھار رقم پر زکوۃ کا حکم


سوال

 ایک آدمی کا گارمنٹ کا کاروبار ہے ، جب  سامان ختم ہوتا ہے تو اسی بیچے ہوئے سامان کے پیسوں سے اور لا کر رکھ دیتا ہےکوئی اور جمع پونجی نہیں ہے بلکہ سارا سامان ادھار پرلاکر رکھ دیتا ہےاوربکنے پر قرض اتارتا ہے تو کیااس پر زکوٰۃ  ادا کرنا لازم ہوگا؟

جواب

               واضح رہے کہ اگر کسی شخص کے پاس قرض کے علاوہ کاروبار کا اتنا سامان ہو جس کی مالیت زکوۃ کے نصاب تک پہنچی ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی۔

                  صورت مسؤلہ میں دوکان میں جتنی مالیت کا سامان(گارمنٹ) قابل فروخت موجود ہے، اس کی قیمت میں سے قرض کی رقم منہا کرکے باقی ماندہ سامان کی مالیت کے ساتھ  موجود نقدی اور دیگر اموال زکوۃ کو جمع کیا جائےاگر مجموعی رقم نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر سال گزر جائےتو زکوۃ اداکرنا لازم ہے۔ البتہ اگر قرض منہا کرکے باقی مال زکوۃ کے نصاب تک نہ پہنچے تو اس صورت میں زکوۃ واجب نہ ہوگی۔

 

(‌ومن ‌كان ‌عليه ‌دين يحيط بماله فلا زكاة عليه)... (وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا) لفراغه عن الحاجة الأصلية. (فتح القدير ،كتاب الزكاة، ج:2، ص:160)

(ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: ‌كل ‌دين ‌له ‌مطالب ‌من ‌جهة ‌العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة، وسواء كان الدين من النقود أو المكيل أو الموزون أو الثياب أو الحيوان وجب بخلع أو صلح عن دم عمد، وهو حال أو مؤجل أو لله - تعالى - كدين الزكاة فإن كان زكاة سائمة يمنع وجوب الزكاة بلا خلاف بين أصحابنا - رحمهم الله تعالى - سواء كان ذلك في العين بأن كان العين قائما أو في الذمة باستهلاك النصاب، وإن كان زكاة الأثمان وزكاة عروض التجارة ففيها خلاف بين أصحابنا فعند أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - الجواب فيه كالجواب في السوائم. (الفتاوي الهندية ، كتاب الزكاة ، الباب الاول في تفسيرها وصفتهاوشرائطها، ج:1، ص:172،173)


فتویٰ نمبر : 9379/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور