بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عورت کا ناشزہ ہونا


سوال

کیا عورت کا بدکاری کے ارتکاب سے نشوز ثابت ہوجاتا ہے؟اور اگر اس بدکاری کے نتیجے میں اسے طلاق دی جائےتو کیا اس کے مہر کو روکا جا سکتا ہے؟

جواب

                 نشوز کے لغوی معنی نافرمانی کے ہیں جبکہ   ناشزہ سے مراد وہ عورت ہے جو مباح امور میں شوہر کی بات نہ مانے یا بغیر کسی معقول وجہ کے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کا گھر چھوڑ کر  چلی جائے ۔

               صورت مسئولہ کے مطابق عورت کا فعلِ بد کا ارتکاب کرنا ایک عظیم گناہ ہے  جو اللہ کی نافرمانی کے ساتھ شوہر کی نافرمانی کو بھی شامل ہے لہذاایسی عورت ناشزہ کہلائے گی البتہ جہاں تک طلاق دینےکی صورت میں مہر کا تعلق ہے تو نکاح کے بعد دخول یا خلوت صحیحہ سے پورا مہرلازم ہوجاتا ہےاور شوہر پر مہر ادا کرنا اس وقت تک لازم  رہتا ہے جب تک بیوی معاف نہ کردے،لہذا طلاق دینے کے بعد  شوہر کو مہر روکنے کا اختیار نہیں بلکہ بیوی کو مہردینا لازم ہے  ۔

 

قال الله سبحانه وتعالى: {واللاتي تخافون نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن} [النساء: ٣٤].

قوله: «نشوزهن»، أي: عصيانهن وتعاليهن عما أوجب الله عليهن من طاعة الأزواج.( شرح السنة للبغوي،باب هجران المرأة وضربها عند النشوز،ج:9،ص:183)           

عن معمر، عن الزهري قال: «لا يحل للرجل أن يأخذ من امرأته شيئا من الفدية حتى يكون ‌النشوز من قبلها»، قيل له: وكيف يكون ‌النشوز؟ قال: " ‌النشوز: أن تظهر له البغضاء، وتسيء عشرته، وتظهر له الكراهية، وتعصي أمره "(مصنف عبد الرزاق،باب ما يحل من الفداء،ج:6،ص:495)

(‌خارجة ‌من ‌بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود ولو بعد سفره...قيد بالخروج لأنها لو مانعته من الوطء لم تكن ناشزة.قال ابن عابدين رحمه الله:قوله:(وهي الناشزه)أي بالمعنى الشرعي،أما في اللغة فهي العاصية على الزوج المبغضة له.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،باب النفقة،ج:5،ص:286)

والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق.(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الفصل الثاني،ج:1،ص:380)


فتویٰ نمبر : 6599/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور