بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اجیر خاص کا اپنے مالک کے حق میں گواہی دینا


سوال

کسی ملازم(اجیر خاص) کی گواہی اپنے مالک کے حق میں شرعا درست ہےیا نہیں؟نیز اگر کسی تنازع میں ایک عام آدمی گواہ ہو اور ایک گواہ مالک کا اجیر خاص ہو تو کیا اثبات دعوی کے لیے یہ کافی ہے یا نہیں؟

جواب

         واضح رہے کہ جس گواہی میں تہمت کا امکان  ہو تو شریعت اس گواہی کو رد کرتی ہے۔

        صورت مسئولہ کے مطابق اجیر خاص   کی گواہی اپنے مالک کے حق  میں تہمت کے اندیشے کی وجہ سےقبول نہیں ہوتی، تاہم جب وہ اجیر خاص نہ رہے تو پھر وہ اپنے سابقہ مؤجر کے حق میں گواہی دے سکتا ہے۔ نیز جس دعوی میں مدعی کے پاس دو گواہ ہوں لیکن ان میں ایک اس کا اپنا اجیر خاص ہو تو  اس کا دعوی ثابت نہیں ہوگا، بلکہ ایسی صورت میں مدعی علیہ پر قسم آئے گی۔

 

إن ‌كان ‌الأجير ‌مشتركا تجوز شهادته في الروايات كلها وما ذكر في الديات محمول على هذا الوجه، وإن كان أجير واحد مشاهرة أو مسانهة أو مياومة لا تقبل شهادته لأستاذه لا في تجارته ولا في شيء آخر وما ذكر في الكفالة محمول على هذا كذا ذكر الناطفي والإمام الصدر الشهيد ووجهه ظاهر.(تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق، باب من تقبل شهادته ومن لاتقبل،ج:4ِ، ص:219)

وقد ذكر الطحاوي، عن محمد بن سنان، عن عيسى، عن محمد، عن أبي يوسف، عن أبي حنيفة: "أن ‌شهادة ‌الأجير غير جائزة لمستأجره في شيء وإن كان عدلا استحسانا".قال أبو بكر: روى هشام وابن رستم عن محمد "أن ‌شهادة ‌الأجير الخاص غير جائزة لمستأجره، وتجوز ‌شهادة ‌الأجير المشترك له. (أحكام القرآن للجصاص، شهادةالأجير، ج:1، ص:619)

فعقلنا من الآية امتناع جواز ‌شهادة ‌رجل واحد، كما عقلنا منها امتناع جواز شهادة امرأتين، لا رجل معهما.(شرح مختصر الطحاوي للجصاص، كتاب أدب القاضي، ج:8، ص:69)


فتویٰ نمبر : 3224/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور