بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بہنوں کو میراث میں حصہ نہ دینا


سوال

اگر والد محترم فوت ہو جائے اس کے بعد ملکیت اور زمین کو صرف بھائی آپس میں تقسیم کریں اور بہنوں کو وراثت سے محروم رکھیں کیا ان بھائیوں کے لئے ایسا کرناجائز ہے؟

جواب

           شریعتِ مطہرہ نے جس طرح مردوں کو میراث میں حصہ دیا ہے اسی طرح عورتوں کا حصہ بھی مقرر کیا ہے۔ لہٰذا  کسی بھائی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بہنوں کو میراث سے محروم کردے۔ نیز میراث میں مورث کے ترکہ میں سے صرف وہ مال تقسیم کیا جائے گا جس کے ساتھ دوسروں کا حق متعلق نہ ہو، کیونکہ جس مال کے ساتھ دوسروں کا حق متعلق ہویا اس کو ناجائز طریقے سےحاصل کیا ہو تو وہ مال تقسیم نہیں کیا جائے گا۔

            صورت مسئولہ میں بھائیوں کے ذمہ   بہنوں کا ترکہ میں سے جو حصہ بنتا  ہو اس کی ادائیگی  لازم ہے اور ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں ناجائز قبضہ کرنے کی وجہ سے  گناہگار ہوں گے۔

 

قال اللہ تعالی:﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن﴾(النساء: ۱۱)

 يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق الغير بعينها۔(الدرالمختار على صدرردالمحتار، كتاب الفرائض،ج:10، ص:493، دار الكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 3400/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور