بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ٹوپی کے ساتھ عمرہ ادا کرنا


سوال

ایک شخص  نے تنعیم(مسجد عائشہ)سے عمرہ کا احرام باندھا اسی وقت سے اس نے سر ڈھانپا تقریباً دو تین گھنٹے میں اس نے عمرہ پورا کیا اس صورت میں پورادن یا دن کا اکثر حصہ جنایت نہیں پائی گئی لیکن دوسری طرف پورا عمرہ جنایت کے ساتھ ادا کیا تو کیا اس پر صدقہ لازم ہو گا یا دم؟

جواب

احرام کی حالت میں سر کھلا رکھنا واجب ہے، اگر کسی نے  اسے ڈھانپ لیا تو   اگر پورا دن ڈھانپ لیا  ہوتو دم لازم ہوتا ہے،البتہ   اس سے  کم وقت ڈھانپنے  کی صورت میں صدقہ لازم ہوتاہے۔

صورت مسئولہ کےمطابق  ٹوپی پہن کر عمرہ کرنے سے عمرہ ادا ہوچکا  البتہ  ٹوپی پہننے کی وجہ سے صدقہ( تین صاع گندم یااس کی قیمت) دینا لازم ہوگا۔

 

"وإن لبس ثوبا مخيطا أو غطى رأسه يوما كاملا فعليه دم وإن كان أقل من ذلك فعليه صدقة".(الهداية،كتاب الحج،باب الجنايات،ج:1،ص:157،بشری)

"وتعصيب الرأس و الوجه فمكروه مطلقاً، موجب للجزاء بعذر أو بغير عذر، للتغليظ إلا ان صاحب العذر غير آثم".(غنية الناسك،باب الإحرام، فصل في مكروهات الإحرام، ص:91،إدارة القرآن)

"وحيثما أطلق الصدقة فى جناية الإحرام …فهى ثلاثة أصواع طعام ،أو ستة من غيره".

وفيه أيضًا:"ولوعصب رأسه أو وجهه يومًا أو ليلةً فعليه صدقة، إلا ان يأخذ قدر الربع فدم".(غنية الناسك،باب الجنايات،ص:254،240،إدارة القرآن)


فتویٰ نمبر : 9377/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور