بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا خلیفہ بلا فصل ہونا


سوال

شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ جس طرح عام حالات میں حضور ﷺ اپنا نائب اور خلیفہ مقرر کرتے تھے ایسا ہی دنیا سے رحلت فرماتے وقت بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ بنایا ہے،لہذا خلیفہ اول  بلافصل حضرت علی رضی اللہ عنہ ہے نہ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ۔تو ان کی یہ بات کہاں تک درست ہے اور کہاں تک غلط؟

جواب

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس امت کی وہ  پاک ہستیاں ہیں جن کی عزت و توقیر، اور ان کاا حترام ایمان کا لازمی حصہ ہے، ان کے خلاف زبان درازی کرنا شرعاحرام ہے، نیز صحابہ میں سے بعض صحابہ  فضائل ومراتب کے لحاظ سے دیگر صحابہ سے افضل ہیں، ان میں سے ابو بکررضی اللہ عنہ کے دیگر کئی  فضائل کے علاوہ ایک بڑی فضیلت یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے بعد بالاتفاق پہلے خلیفہ ہیں ۔ حضور ﷺ نے اگرچہ صراحۃ کسی کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا تھا مگر اشارۃ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا تھا جس پر درج ذیل احادیث مبارکہ دلالت کرتی ہیں ، لہذا یہ اعتراض کرنا درست نہیں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنا خلیفہ  مقرر نہیں  کیا تھا۔

 ترمذی  میں حضرت عائشہ کی روایت نقل کی  گئی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جس قوم میں ابوبکر  موجود ہو ان کے لیے مناسب نہیں کہ کوئی اور ان کی امامت کرے"  )سنن الترمذی)  اس حدیث کی تشریح میں ملاعلی قاری فرماتے ہیں کہ اس روایت  سے معلوم ہوا کہ اس امت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں اور اس سے یہ ثابت ہوا کہ خلافت کے بھی وہ مستحق ہیں۔

حضرت حذیفہ  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضورﷺ کی مجلس میں بیٹھے تھے ، آپﷺ نے فرمایا :  مجھے معلوم نہیں کہ کب تک میں تمھارے درمیان  رہوں گا۔  اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی طرف اشارہ  کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے بعد ان کی اتباع کرو۔(صحیح البخاری)

ابن عمر  رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہی جب ہم کو صحابہ کے  درمیان انتخاب کے لیےکہا جاتا تو سب سے افضل و بہتر ہم ابوبکررضی االلہ عنہ کو   قرار دیتے پھر عمر کو پھر عثمان کو۔(صحیح البخاری)

جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  کہ ایک  خاتون حضورﷺ کے پاس آئی توآپﷺ نے فرمایاکہ  پھر آنا ، اس نے کہا :اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ گویا وہ وفات کی طرف اشارہ کررہی تھی۔ آپﷺ نے  فرمایا: تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر کے پاس چلی جانا۔(صحیح البخاری)

بخاری شریف میں ہےکہ محمد بن حنفی نےبیان  کیا ہے کہ میں نے اپنے اپنے والد (علی رضی اللہ عنہ) سے پوچھا کہ صحابہ میں سے سب سے افضل کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ابوبکر، میں نے پوچھا :پھر کون؟ فرمایا عمر، مجھے اندیشہ ہوا کہ پھر عثمان کا نام بولیں گے تو میں نے کہا کہ پھر تم ہو؟یہ سن کر انہوں نے فرمایا کہ میں تو مسلمانوں کی جماعت کا ایک فرد ہوں(صحیح البخاری)اس روایت سے معلوم ہوتا ہے  کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاں بھی مسلم تھی۔

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ نبی کریم نے ایک مرتبہ فرمایا : تم میں کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ تو ایک آدمی نے کہا کہ میں نے دیکھا  کہ گویا آسمان سے ایک ترازو اترتا ہے اور  اس پر آپﷺ اور ابوبکر  کا وزن  کیاگیا تو آپ ﷺکا پلڑا  بھاری رہا اورپھر ابوبکر و عمر کا وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا بھا ری رہا، اور پھرعمر و عثمان میں عمر کا پلڑا بھاری رہا، پھر وہ ترازو اٹھا یا گیا تو ہم نے حضور ﷺ کے چہرے پر   ناگواری دیکھی(صحیح البخاری)۔ اس روایت  سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کے بعد خلافت کا اہل ابوبکر  رضی اللہ عنہ تھے۔

لہذا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بلافصل ماننا غلط ہے،  اس عقیدے سے آدمی مبتدع اور فاسق ہوتا ہے۔

 

عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  «لا ينبغي لقوم فيهم أبو بكر ‌أن ‌يؤمهم ‌غيره». (جامع الترمذي، كتاب المناقب، باب فضل أبي بكر، ج:2، ص:991)

«لا ينبغي لقوم فيهم أبو بكر ‌أن ‌يؤمهم ‌غيره» ) . وفي معناه من هو أفضل القوم من غيرهم، وفيه دليل على أنه أفضل جميع الصحابة، فإذا ثبت هذا فقد ثبت استحقاق الخلافة، ولا ينبغي أن يجعل المفضول خليفة مع وجود الفاضل. (مرقاة المفاتيح،كتاب المناقب، باب فضل أبي بكر، ج:10، ص:378)

عن حذيفة قال: كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «إني لا أدري ما بقائي فيكم، ‌فاقتدوا ‌باللذين من بعدي» وأشار إلى أبي بكر وعمر.(جامع للترمذي، أبواب المناقب، ج:2، ص:610)

عن أبي بكرة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ذات يوم: «من رأى منكم رؤيا؟» فقال رجل: أنا، رأيت كأن ‌ميزانا ‌نزل ‌من ‌السماء فوزنت أنت وأبو بكر فرجحت أنت بأبي بكر، ووزن عمر وأبو بكر، فرجح أبو بكر، ووزن عمر وعثمان، فرجح عمر ثم رفع الميزان، فرأينا الكراهية في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم.(سنن أبي داؤد، باب في الخلفاء، ج:4، ص:208)

حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، حدثنا جامع بن أبي راشد، حدثنا أبو يعلى، عن محمد ابن الحنفية، قال: قلت لأبي ‌أي ‌الناس ‌خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: «أبو بكر»، قلت: ثم من؟ قال: «ثم عمر»، وخشيت أن يقول عثمان، قلت: ثم أنت؟ قال: «ما أنا إلا رجل من المسلمين»( صحيح البخاري،  باب قول النبي :لو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبابكر،رقم الحديث:3671، ج:4، ص:332)

حدثنا الحميدي، ومحمد بن عبيد الله، قالا: حدثنا إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن أبيه، قال: أتت امرأة النبي صلى الله عليه وسلم، ‌فأمرها ‌أن ‌ترجع إليه، قالت: أرأيت إن جئت ولم أجدك؟ كأنها تقول: الموت، قال صلى الله عليه وسلم: «إن لم تجديني فأتي أبا بكر». (صحيح البخاري، باب قول النبيﷺ:لو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبابكر،ج:4، ص:332)

حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا سليمان، عن يحيى بن سعيد، عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: «‌كنا ‌نخير ‌بين الناس في زمن النبي صلى الله عليه وسلم فنخير أبا بكر، ثم عمر بن الخطاب، ثم عثمان بن عفان رضي الله عنهم».( صحيح البخاري،باب فضل أبي بكر بعد النبي صلي الله عليه وسلم، رقم الحديث:3645، ج:4، ص:333)

الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله، فهو كافر، ‌وإن ‌كان ‌يفضل عليا كرم الله تعالى وجهه على أبي بكر - رضي الله تعالى عنه - لا يكون كافرا إلا أنه مبتدع. (الفتاوى الهندية، كتاب السير، الباب التاسع في أحكام المرتدين، ج:2، ص:276)


فتویٰ نمبر : 5304/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور