بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
نامرد(عنين) شوہر سے بیوی کو ضرر کا اندیشہ ہونا
سوال
ہماری بہن کانکاح ایک مرد سے ہوا۔ رخصتی کے بعد اس نے کہا کہ میرا شوہر عنین(نامرد) ہے۔ ہم نے اس کے شوہر کو کہا لیکن اس نے انکار کیا ۔ جس کی وجہ سے ہم اس معاملے میں قاضی کے پاس گئے تو قاضی نے فیصلہ کرکے اس کو ایک سال کی مہلت دی اور ہمیں کہا کہ اس کی بیوی بھی اسے حوالہ کریں۔ اب اگر ہم اپنی بہن کو اس کے حوالے کردیں تو ہوسکتا ہے کہ وہ اسے مارے پیٹے ، یا اس کو قتل کردے۔ایسی صورت حال میں ہم کیا کریں؟ یاد رہے کہ شوہر طلاق دینے کو بھی تیار نہیں۔
جواب
فقہاے کرام کی عبارات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر شوہر نامرد(عنین) ہو تو حاکم وقت یا قاضی اس کو ایک سال تک مہلت دے گا۔ اگر اس دوران اس کو بیوی کا حق ادا کرنے کی قدرت حاصل ہوئی تو نکاح اپنے حال پر برقرار رہے گا، تاہم اگر اس نے قدرت نہ پائی تو پھر اگر بیوی اس سے جدائی کا مطالبہ کرے، تو حاکم یا قاضی ان کو ایک دوسرے سے جدا کردے گا۔
صورت مسئولہ کے مطابق قاضی کا شوہر کو ایک سال تک مہلت دینے اور بیوی اس کے حوالہ کرنے کا فیصلہ درست ہے، لیکن اگر عورت کی حوالگی میں واقعتا اس کے مار پیٹ یا قتل کا اندیشہ ہو تو بایں صورت عورت کے رشتہ دار عدالت یا قاضی کی طرف رجوع کرکےشوہر کے کسی بھی انتہائی اقدام کے خلاف اطمینان حاصل کرسکتے ہیں۔
(وإذا كان الزوج عنينا أجله الحاكم سنة فإن وصل إليها فبها وإلا فرق بينهما إذا طلبت المرأة ذلك) هكذا روي عن عمر وعلي وابن مسعود رضي الله تعالى عنهم... إلخ. (الهداية في شرح بداية المبتدي، ج:2، ص:273، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
والحاكم نائب عن الله في أرضه في إنصاف المظلوم من الظالم وإيصال الحق إلى المستحق ودفع الظلم عن العباد والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، ج:4، ص:175، المطبعة الكبرى الأميرية، القاهرة)