بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
بیوی کو ماں یا بہن كہنا
سوال
ایک شخص نے غصہ کی حالت میں اپنے بیوی سے یہ کہا:"تہ ماباندے خورئے،مورئے،ترورئے"تو شرعا نکاح کا کیا حکم ہے؟
جواب
ظہار کے الفاظ دو قسم پر ہیں: صریح اور کنائی۔ صریح سے مراد ایسی تعبیرات ہیں جن میں ظہار کے سواکسی اور معنی کی گنجائش نہ ہوجیسے یوں کہےکہ:"تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ، پیٹ کی طرح ہے"۔ اس صورت میں نیت کی ضرورت نہیں بلکہ یہ قول بہرصورت ظہار پر محمول ہوگا۔ دوسری قسم کنائی ہےجس میں ظہار کے معنی کی بھی گنجائش ہو اور دوسرے معنی کے بھی، جیسے: "تو مجھ پر میری ماں کی طرح ہے" تو اس میں نیت کا اعتبار ہوگا۔ اگر شوہر کہے کہ میری مراد ماں جیسی احترام اور شرافت تھی تو کچھ بھی نہیں ہوگا، اور اگرطلاق کا ارادہ ہو تو طلاق واقع ہو جائے گی، ایلاء مراد ہو تو ایلاء کا حکم لاگو ہوگااور اگر ظہار مراد ہو تو ظہار کا حکم لگے گا، البتہ اگر کچھ مراد نہ ہو تو مفتی بہ قول کے مطابق کوئی حکم نہیں لگے گا۔
صورت مسؤلہ میں اگر شوہر نے بیوی سے یہ الفاظ " تہ ماباندے خورئے،مورئے،ترورئے" (آپ میرے لئے ماں،بہن،پھوپھی ہو)کہے ہوں تو اگر عرف و عادت میں اور علاقائی محاورات میں لوگ بیوی کو "ماں، بہن،پھوپھی" کہنے سے طلاق مراد لیتے ہوں تو یہ طلاق کے حکم میں ہو کر اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہے۔
ولو قال: أنت علي كأمي أو مثل أمي يرجع إلى نيته فإن نوى به الظهار كان مظاهرا، وإن نوى به الكرامة كان كرامة، وإن نوى به الطلاق كان طلاقا، وإن نوى به اليمين كان إيلاء؛ لأن اللفظ يحتمل كل ذلك إذ هو تشبيه المرأة بالأم فيحتمل التشبيه في الكرامة والمنزلة أي أنت علي في الكرامة والمنزلة كأمي ويحتمل التشبيه في الحرمة ثم يحتمل ذلك حرمة الظهار ويحتمل حرمة الطلاق وحرمة اليمين فأي ذلك نوى فقد نوى ما يحتمله لفظه فيكون على ما نوى.وإن لم يكن له نية لا يكون ظهارا عند أبي حنيفة وهو قول أبي يوسف۔ (بدائع الصنائع، كتاب الظهار، فصل في شرائط الظهار، ج:5، ص:8)
والحاصل أن المتأخرين خالفوا المتقدمين في وقوع البائن بالحرام بلا نية حتى لا يصدق إذا قال لم أنو لأجل العرف الحادث في زمان المتأخرين، فيتوقف الآن وقوع البائن به على وجود العرف۔ (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:4، ص:530)