بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
گواہی کی مقدار پوری نہ ہونے کی صورت میں مدعی علیہ سے قسم اٹھانا
سوال
اگر مدعی آدھے گواہ پیش کرے اور پھر مدعی علیہ قسم اٹھا دے تو کیا حکم ہے؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے دعوی ثابت کرنے کے لیے مدعی پرگواہ پيش كرنا لازم ہے، چنانچہ اگر نصاب کے مطابق گواہ پيش نہ کر سکے، تو اس صورت میں مدعی علیہ پر قسم اٹھا نا لازم ہے، صورت مسئولہ کے مطابق گواہی کا نصاب مکمل نہ ہونے کی صورت میں ناقص گواہی کا کوئی اعتبار نہیں،لہذامدعی علیہ کو قسم دی جائے گی ،قسم اٹھانے سے مدعی علیہ بری الذمہ ہوجائے گا، جب کہ قسم سے انکار کی صورت میں مدعی علیہ پر جرم ثابت ہوگا۔
أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته: «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه»(سنن الترمذي،ج:1ص:249)
فكان جعل البينة حجة المدعي وجعل اليمين حجة المدعى عليه وضع الشيء في موضعه وهو حد الحكمة وعلى هذا يخرج القضاء بشاهد واحد ويمين من المدعي أنه لا يجوز عندنا خلافا للشافعي (بدائع الصنائع،فصل في حجةالمدعي والمدعي عليه،ج:6،ص:225)