بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
غیرت کے نام پر قتل
سوال
ہمارے ہاں کبھی کبھار اس طرح ہوتا ہے کہ جس لڑکے کا جس لڑکی کے ساتھ تعلق ہوتا ہے وہ لڑکا بار بار اس لڑکی کے گھر کے سامنے آتا جاتا ہے یا بار بار لڑکی کے گھر کے گیٹ کے سامنے کھڑاہوکر گھر والوں کو چیلنج کرتا ہے کہ میرے علاوہ کسی کو یہ لڑکی نہیں دو گے ۔اب لڑکی کا بھائی اس کو گولی مار کر قتل کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی عزت کے لئے قتل کیا۔دریافت طلب یہ ہے کہ اس قتل پر کون سے قتل کے احکام جاری ہوں گےاور قاتل کو کون سی سزا دی جائے گی؟
جواب
واضح رہے کہ حدود اور قصاص جاری کرنے کا اختیار قاضی اور حاکم کے پاس ہے،کوئی شخص انفرادی طور پر حدود جاری نہیں کرسکتا،تاہم جان،مال اور عزت بچانے کے لیے دیگر احتیاطی تدابیر کی جا سکتی ہیں۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق قاتل کو اس آدمی کے قتل کرنے کا حق نہیں تھا،شریعت اس کی قطعا اجازت نہیں دیتی ،یہ قتل عمد شمار ہوگا، کیونکہ آلہ قتل سے اس کو قتل کیا ہے۔اب قاتل کو سچی توبہ کے ساتھ استغفار کرنا چاہیے۔تاہم اس سے قصاص لیناقاضی اور حاکم کے دائرہ اختیا ر میں ہے ،کسی کو انفرادی طور پر یہ حق حاصل نہیں۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يحل دم امرئ مسلم، يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس، والثيب الزاني، والمارق من الدين التارك للجماعة ". (صحيح البخاري، كتاب الديات، ج:2، ص:1016)
٣٣١٩ - (وعن جابر بن عتيك) : بفتح العين المهملة وكسر الفوقية بعدها تحتية ساكنة. قال المؤلف: كنيته أبو عبد الله الأنصاري، شهد بدرا وجميع المشاهد بعدها. (أن نبي الله - صلى الله عليه وسلم -: قال: " من الغيرة ": بفتح أوله، أي على أهله (ما يحب الله) . أي: يرضاه ويستحسنه (ومنها ما يبغض الله) : أي: يكرهه ويستقبحه (فأما التي يحبها الله) : تفصيل على طريق اللف والنشر المرتب (فالغيرة في الريبة) : بالكسر أي في موضع التهمة، والشك ما تتردد فيه النفس كمظهر فائدة الغيرة وهي الرهبة والانزجار، وإن لم تكن في موقعها فتورث البغض والشنآن والفتن، وهذا معنى قوله: (وأما التي يبغضها الله في غير ريبة) : وفي نسخة من غير ريبة، بأن يقع في خاطره ظن سوء من غير أمارة كخروج من باب، أو ظهور من شباك، أو تكشف على أجنبي، أو مكالمة معه من غير ضرورة. (مرقاةالمفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج:5، ص:2173)