بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے متعلق وسوسہ آنے کا حکم


سوال

وسوسہ نے بہت پریشان کر رکھا ہے ، ہمارا سب کا ایمان یہ ہے کی الله پاک کی ذات ازل سے موجود ہے، جب کچھ نہ تھا تب الله پاک موجود تھا اب جب سب کچھ اس کے فضل سے ہے تو بھی الله پاک کی ذات ہے اور جب اس کےکُن سے یہ سب ختم ہوگا تب بھی وہ موجود ہوگا۔ وسوسہ آرہاہے نماز میں، ذکر میں،شہادت کا کلمہ پڑھتا ہوں تب بھی ۔ڈر لگ رہا ہے کے کہیں یہ میری سوچ تو نہیں،کل رات بستر سے اترا دو رکعت توبہ کی پڑھی ۔ڈر لگ رہا ہے ایمان خراب نہ ہو جائے، الله پاک ناراض نہ ہو جائے، کہیں اللہ پاک میرا ٹھکانہ جہنم نہ کردے۔

جواب

واضح رہے کہ برے وساوس کوبرا سمجھنا ،ان سے ڈرنا اور اپنے ایمان کے بارے میں فکر مند ہونا در حقیقت ایمان کی علامت ہے کیونکہ صاحب ایمان ہی وسوسہ سےتشویش میں مبتلا ہوتا ہے ۔چنانچہ حدیث میں ہے کہ ایسے ہی وسوسوں کے متعلق صحابہ کرام نے بھی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ذکر کیا تھا اور ایمان کو خطرہ لاحق ہونے کا ذکر کیا تھاآپ ﷺنے ان کی پریشانی سن کر ان سے پوچھا:کیا واقعی ایسے وساوس تم کو آتےہیں؟صحابہ نے عرض کیا :جی ہاں،ایسے وساوس آتے ہیں۔آپﷺنےفرمایا:"یہ تو صریح ایمان ہے"۔ لہٰذا ان وساوس کو دل میں جگہ نہ دی جائے، لوگوں کے سامنے ان کا اظہار نہ کیا جائے، بلکہ اس طرح کا خیال جھڑک کر ذکر  اللہ کی کثرت کا اہتمام کرنا چاہیے۔وسوسوں کے آنے سے پریشان ہونے کی بجائےاس حدیث کو مد نظر رکھ کر خوش ہونا چاہیےکہ یہ ایمان کی علامت ہے۔

 

قال اللہ تعالی:لَا ‌يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفسًا إِلَّا وُسعَهَا لَهَا مَا كَسَبَت وَعَلَيها ما كتَسَبَت رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذنَا إِن نَّسِينَا أَو أخطأنا ...البقرة، 286)

عن أبي هريرة قال :جاء ناس من أصحاب النبّي صلى الله عليه وسلم إلى النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه:إنا نجد في انفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به، قال: "أوقدوجدتموه" قالوا :نعم قال: "ذلك صريح الإيمان"۔ وعنه، قال:قال رسول الله صلي الله عليه وسلم:"يأتي الشيطان أحدكم،فيقول:من خلق كذاو كذا؟حتي يقول له:من خلق ربك؟ فإذا بلغ ذلك؛ فليستعذ بالله ولينته"۔ (الصحيح لمسلم، كتاب الإيمان، باب بيان الوسوسة في الإيمان،ج1،ص179(


فتویٰ نمبر : 5268/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور