بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
طلاق معلق اور عدد طلاق میں شک کا حکم
سوال
ایک آدمی نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے کہ" اگر تم نے کمرے کی بات کمرے سے باہر کسی کو بتا دی تو تمھیں طلاق ہے "اب اس کی بیوی نے اپنے دیور کو کمرے کی کچھ باتیں بتادیں اور آدمی یہ بھول گیا ہے کہ کتنی طلاق کا ذکر کیا ہے،شریعت کی رو سے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
طلاق کو اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہو جائے گی۔
صورت مسئولہ میں اگر اس شخص نے بیوی کو یہ الفاظ کہے ہو ں کہ" اگر تم نے کمرے کی بات کمرے سے باہر کسی کو بتا دی تو تمھیں طلاق ہے" اور اس کی بیوی نے اپنے دیور کو کمرے کی کچھ باتیں بتادیں لیکن واقعتا اس شخص کو یہ یاد نہ ہو کہ ایک طلاق کا ذکر کیا ہے یا دوکایا تین کا اور کسی ایک جانب غالب گمان نہ ہو تو ایسی صورت میں چونکہ ایک طلاق یقینی ہے،اس لئے ایک طلاق واقع شمار ہو گی ۔
وإذا أضافه إلى الشرط،وقع عقيب الشرط اتفاقا۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:420)
في نوادر ابن سماعة عن محمد:إذا شك في أنه طلق واحدة أو ثلاثا،فهي واحدة،حتى يستيقن أو يكون أكبر ظنه على خلافه۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق،ج:1،ص:363)