بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
رشتہ دار کو زکوۃ کے مال سے مکان بنا کر دینا
سوال
ایسے رشتہ دار جو اپنے آپ کو مستحق نہ کہتے ہوں ان کو تملیک کروا کر مکان بنا کر دینا جائز ہے جیسے مدارس میں طلباء سے تملیک کرو اکر نظام چلایا جاتا ہے؟
جواب
شریعت کی رو سے زکوۃ کی ادائیگی میں بنیادی شرط تملیک( مستحق زکوۃ کومالک بنانا)ہےچاہے زکوۃ نقد رقم کی شکل میں ادا کی جائے یا دیگر اشیاء کی صورت میں ۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر رشتہ دار مستحق ہوں تو انہیں زکوۃ کی رقم سے مکان تعمیر کروا کر اس کا مالک بنانا جائز ہے، مال تملیک کروانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر رشتہ دار مستحق نہ ہوں توزکوۃ کی رقم کی تملیک یا اسی طرح زکوۃ کے مال سے مکان بنا کردینا دونوں جائز نہیں۔
أما الذي يرجع إلى المؤدى فمنها أن يكون مالا متقوما على الإطلاق سواء كان منصوصا عليه أو لا من جنس المال الذي وجبت فيه الزكاة أو من غير جنسه۔ (بدائع الصنائع ،كتاب الزكوة ،فصل فيما يرجع الى المؤدى،ج2/ص461)
ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا ) لا إباحة۔ (الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب الزكوة ،باب المصرف،3/ص291)