بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بینک کے ملازم کا زکوۃ کی رقم کار خیر میں لگانا


سوال

کسی شخص کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ بینک میں کام کرتا ہے تو کیا اس کی زکوۃ خیر کے کام میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

                  واضح رہے کہ کنونشل بینک میں عموما سودی معاملات ہوتے ہیں اور اسلام میں سود کا حرام ہونا کسی سے مخفی نہیں۔ سود کا لین دین کرنے والوں کے ساتھ ساتھ سودی معاملات لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والے پربھی لعنت کی گئی ہے۔ اس لئے سودی بینک کی وہ ملازمت جس میں براہ راست سودی معاملات میں تعاون ہو وہ ملازمت اور اس کی آمدنی دونوں ناجائز ہیں، چنانچہ اس تمام آمدنی کو بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کرنا لازم ہے۔

                  صورت مسئولہ کے مطابق اگر بینک ملازم ایسے پوسٹ پر ہے جس کا براہ راست تعلق سودی معاملات سے ہو اور اس کی آمدنی صرف اسی ملازمت کی تنخواہ سے  ہو تو ایسے بینک ملازم کے مال پر زکوۃ نہیں بلکہ کل مال بغیر ثواب کی نیت کے  صدقہ کرنا لازم ہے۔

 

عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»(الصحیح لمسلم، کتاب البیوع،  باب الربوا، ج:2 ، ص:27 ، مکتبةرحمانیة)

آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال(الفتاوی الھندیة،کتاب الکراھیة، الباب الثانی عشر في الھدایا والضیافات، ج:5 ص:343، دارالفکر)

"وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه"(ردالمحتارعلی ھامش الدرالمختار، کتاب الحظروالإباحة، باب الاستبراءوغیرہ، فصل في البیع، ج:9، ص:553 ، دارالکتب العلمية)

"الأمور بمقاصدها"يعني أن الحكم الذي يترتب على أمر يكون على مقتضى ما هو المقصود من ذلك الأمر۔ (شرح المجلةلخالد الأتاسي،المقالة الثانية، المادة:2،ج1،ص13)


فتویٰ نمبر : 9357/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور