بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دوسری شادی پر لڑکی کے خاندان والوں کی نا راضگی


سوال

میرے دوست نے ایک طلاق یافتہ لڑکی سے 6 سال پہلے شادی کی ہے، جو کہ اپنے شوہر سے 12 سال عمر میں بڑی ہے۔ ان پانچ سال میں ان کی کوئی اولاد بھی نہیں ہوئی۔ شوہر نے جب دوسری شادی کی بات کی ،تو بیوی نے کہا کہ جب وقت آئے گا تو میں اجازت دے دوں گی، لیکن جب لڑکے نے دوسری شادی کے لیے ایک جگہ رشتہ کی بات طے کر لی، اور پہلی بیوی کو اجازت نامہ پر دستخط کرنے کیلئے کہا تو بیوی نے اپنے والدین سے بات کی کہ میرا شوہر دوسری شادی کررہا  ہے۔ بیوی کے والدین اور بھائی آگ بگولا ہو گئے اور اپنی بیٹی کو لے کر چلے گئے ۔ اب ان کی طرف سے یہ مطالبہ ہے کہ اگر آپ اس بات  کا وعدہ کرو کہ آپ  دوسری شادی نہیں کرو گے تو آپ اپنی بیوی کو لے کر جا سکتے ہیں ، اگر ایسا نہیں تو آپ ہماری بیٹی کو طلاق دے دیں ، جبکہ مرد کو دوسری شادی کرنے  اور حقوق کی برابری کرنے کا یقین ہے، لڑکا اپنی پہلی بیوی کو بھی ساتھ رکھنا چاہتا ہے،  بیوی بھی اپنے والدین کے ساتھ ہے ، اور وہ یہ اظہار نہیں کرتی کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں اگرچہ وہ دوسری شادی کر لے۔ لڑکے نے خود ہی اپنی بیوی سے فون پر رابطہ کر کے اسے واپس لانے کی کوشش کی ،اور یہ کہا کہ آپ کے والدین جو مرضی کہتے رہیں آپ اپنی رائے دیدے کہ آپ نے میرے ساتھ رہنا ہے کہ نہیں ۔اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو میں آپ کوکسی ذریعہ سے لے کر آ سکتا ہوں، لیکن اس نے کوئی جواب ہاں یا ناں میں نہیں دیا ،خاندان کے لوگوں نے لڑکی کے والدین کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن انکا یہ ایک ہی بیانیہ ہے، جو اوپر ذکر کر دیا گیا۔ حضرت اگر لڑکا پہلی بیوی کو چھوڑے بغیر یا اجازت نامہ لیے بغیر دوسری شادی کرتا ہے ، تو پاکستانی قانون کے مطابق لڑکے کو سزا ہو سکتی ہے اور سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے ملازمت جانے کا بھی خطرہ ہے۔ اگر لڑکا زندگی میں کبھی بھی دوسری شادی نہ کرنے کا وعدہ  کرتا ہے تو یہ سب معاملہ حل ہو سکتا ہے، لیکن اس بیوی سے اولاد نہ ہونے کا بھی اندیشہ ہے،  اور 12 سال عمر میں بھی زیادہ ہے اور طلاق یافتہ بھی ہے لڑکا 23 سال کا ہے اور اسکی بیوی 35 سال کی۔ ایسی صورت میں مرد کو کیا کرنا چاہیے برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں بندہ کی راہنمائی فرما دیں ۔

جواب

                شریعت مطہرہ کی رو سے دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی اور اس کے خاندان والوں کی اجازت و رضامندی شرط نہیں، چنانچہ جس کو دوسری شادی کے بعد دونوں بیویوں کے حقوق خوش اسلوبی سے  ادا کرسکنے کا غالب گمان ہو،تو ایسے  آدمی کے لیے دوسری شادی کرنے کی اجازت ہے۔

               لہذا صورت مسئولہ کے مطابق سائل اگر دونوں بیویوں کے حقوق ادا کرسکتا ہو تو اس کے لیے دوسری شادی کرنا جائز ہے، اگر چہ  پہلی بیوی کے خاندان والے اس پر راضی نہ ہوں۔تاہم مناسب یہ ہے کہ وہ مصلحتاً پہلی بیوی اور اس کے خاندان والوں کی ذہن سازی کرلے،اس کے بعد دوسری شادی کرے،تاکہ بعد میں ناخوشگوار حالات پیدا نہ ہوں۔

 

قال الله تعالى:{فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى و ثلاث و ربع ۚ فإن خفتم ألّا تعدلوا فواحدة أو ما ملكت أيمانكم} .(النساء:3)

وللحر أن يتزوج أربعا من الحرائروالإماء،و ليس له أن يتزوج أكثر من ذالك؛لقوله تعالى: {فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى و ثلاث و ربع}.(الهداية،فصل في المحرمات،ج:2،ص:331 رحمانية)

له امرأةأو جارية فأراد أن يتزوج أخرى،فقالت:أقتل نفسي،له أن يأخذ ولا يمتنع؛لأنه مشروع.( الفتاوى البزازية،كتاب النكاح،ج:1،ص:101،دارالفكر بيروت)


فتویٰ نمبر : 6572/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور