بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
عبدالسعید نام رکھنا
سوال
میرا نام والدین نے عبد السعید رکھا ہے۔شرعی طور پر اس کا کیا حکم ہے؟میری عمر اس وقت پچاس سال کے قریب ہے،تمام کاغذات وغیرہ میں تبدیل کیسے کریں؟
جواب
اسلام نے بچے کے لیے اچھے نام کے انتخاب کو اس کے حقوق میں شمار کیا ہے۔والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچےکےلیے ایسے نام کا انتخاب کریں جو با معنی ہو یا کسی نبی ،صحابی یا صالح بندے کا نام ہو،اس کے علاوہ جو نام بے معنی ہو یاشرکیہ ہو،اس سےاحتراز ضروری ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر والدین نے سائل کا نام عبد السعید رکھا ہے تو چونکہ اس میں عبد کی اضافت سعید کی طرف ہو رہی ہےجوکہ اللہ کے ناموں میں سے کوئی نام نہیں اس وجہ سے اسں میں اضافت غیر اللہ کی طرف ہو رہی ہے،اس لیے ایسے نام رکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے،تاہم چونکہ عبدمجازی معنی کے اعتبار سے تابعدار وفرمان بردار کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اس لیے اس معنی کے لحاظ سے یہ نام درست ہو سکتا ہے چنانچہ جہاں عرف میں ایسا نام رکھنے سے کسی مسلمان کا رجحان باری تعالی کے ساتھ شرک نہیں ہوتا تو وہاں عبد السعید نام بر قرار رکھ سکتےہیں۔
أقول: ويؤخذ من قوله ولا عبد فلان منع التسمية بعبد النبي ونقل المناوي عن الدميري أنه قيل بالجواز بقصد التشريف بالنسبة، والأكثر على المنع خشية اعتقاد حقيقة العبودية كما لا يجوز عبد الدار (ردالمحتار علي الدر المختار ،كتاب الحظر والاباحة ،باب الاستبراء وغيره، ج:6،ص:418)
أحب الأسماء إلى الله تعالى عبد الله وعبدالرحمن.... والتسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة... وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط.(الفتاوي الهندية،كتاب الكراهية،ج:5 ص:418)