بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نمازیوں کے نہ ہونے کی صورت میں محلےکی مسجد میں اذان دینا اور نماز پڑھنا


سوال

ہمارے علاقہ جنوبی وزیرستان میں موسم سرما کے دوران رہائشی لوگ بہت ہی کم ہو تے ہیں جس کی وجہ سے اکثرمحلےکی مسجد میں جماعت کی نماز نہیں پڑھی جا تی، تو پو چھنا یہ ہے کہ محلے کی مسجد میں  اذان دینا اور نماز پڑھنا مسنون ہے یا دوسری مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا چاہیے؟

جواب

              فقہائے کرام  کی تصریحات کے مطابق محلہ کی مسجد کو آباد کرنادوسری مسجد میں نمازپڑھنے سے بہتر ہے،چنا نچہ اگرمسجد میں مؤذن کے علاوہ کوئی آدمی بھی مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہیں آتا تو فقہائےکرام فرماتے ہیں کہ مؤذن اذان دے،اقامت کرے اوراکیلے نماز پڑھے،اسی طرح  اکیلے نماز پڑھنا دوسری مسجد میں با جماعت نماز پڑھنے سے افضل ہے۔

               صورت مسؤلہ میں سائل کا اذان دینا، نماز پڑھنا اور اپنی مسجد کو آباد رکھنابہترہےبنسبت اس کے کہ دوسری مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھے۔

 

مؤذن ‌مسجد لا يحضر مسجده أحد. قالوا: هو يؤذن ويقيم ويصلي وحده، وذاك أحب من أن يصلي في مسجد آخر.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلوة، باب الإمامة، ج:1، ص:555، دارالفكر،بيروت)


فتویٰ نمبر : 9348/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور