بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین کو تبدیل کرنا
سوال
ایک شخص نے مدرسہ کے لیے پانچ مرلہ زمین وقف کی جو کہ انتظامی امورچلانے کے لیے ناکافی ہےاور ابھی تک اس پر عمارت وغیرہ بھی نہیں بنائی گئی ہے اور اس زمین کے قریب اور زمین نہیں مل رہی تاکہ مزید زمین خریدی جاسکے تو کیا ہم اس جگہ کو دوسری جگہ سے تبدیل کرنےیا اس زمین کو فروخت کرکے اس کی بجائے دوسری جگہ زمین خرید سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ وقف تام ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو ،اس میں کم سے کم ایک مرتبہ استعمال ہوجائے، چنانچہ مدرسہ کے لیے وقف کی گئی زمین کا وقف اس وقت تام متصور ہوگا جب اس میں تعلیمی سلسلہ شروع ہوجائے۔
صورت مسؤلہ میں اگر کسی شخص نے 5 مرلہ زمین مدرسہ کے لیے وقف کی ہوجو کہ تعلیمی سلسلے کے لیے نا کافی ہو اور اس میں ابھی تک تعلیم وغیرہ کا سلسلہ شروع نہ ہو ا ہو تو وقف تام نہ ہونے کی وجہ سے اس جگہ کو دوسری جگہ سے تبدیل کرنے یا اس زمین کو فروخت کرکے مدرسہ کے لیے کوئی اور زمین خریدنے میں شرعا کو ئی حرج نہیں ہے۔
(ويزول ملكه عن المسجد والمصلى) بالفعل و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والامام (الصلاة فيه)۔۔۔لأنه لابد من التسليم عندهما خلافا لأبي يوسف وتسليم كل شيئ بحسبه،فيفي المقبرة بدفن واحد وفي السقاية بشرية وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف واشتراط الجماعة لأنها المقصود ة من المسجد۔(الدرالمختار مع رد المحتار،كتاب الوقف،ج:6،ص:546)