بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گھر سے امام ِ مسجد کی اقتدا کرنا


سوال

 مسجد کے پڑوسی  لاؤدسپیکر کے ذریعے پہنچنے والی آواز پر گھر سے نماز با جماعت میں شرکت کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

                اقتدا درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ امام اور مقتدی کا مکان متحد ہو،خواہ حقیقتاً متحد ہو یا حکماً۔حقیقتاًمتحد ہونے کی مثال یہ ہے کہ امام اور مقتدی دونوں ایک ہی مسجد یا ایک ہی گھر میں  کھڑے ہوں۔اور حکماً متحد ہونے کی مثال یہ ہے کہ دونوں الگ الگ جگہوں میں ہوں،لیکن درمیان میں صفیں متصل ہوں ۔چنانچہ اگر امام اور مقتدی کے درمیان عام راستہ ہو تو ایسی صورت میں اقتدا کرنا درست نہیں ہے،اگرچہ امام کی آواز آتی ہو۔

                لھذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر مسجد اور گھر کے درمیان  طریق عام  (عام راستہ)ہو  یا کوئی گھر وغیرہ حائل ہویا بیل گاڑی گزرنے کے بقدر فاصلہ ہوتو پھر گھر سے امام کی  اقتدا کرنا درست نہیں ہے۔اور اگر  درمیان میں  صفیں متصل ہوں  تو پھر گھر سے امام ِ مسجد کی اقتدا کرنے کی گنجائش ہے۔

 

ويجوز اقتداءجار المسجدبإمام المسجدوهو في بيته،إذا لم يكن بينه و بين المسجد طريق عام،وإن كان  طريق عام و لكن سدته الصفوف جاز الاقتداء لمن في بيته بإمام المسجد۔(الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة،دارالفكر بيروت،ج:1،ص:ا46)

والصغرى :ربط صلؤة المؤتم بالإمام بشروط عشرة:نية الاقتداءو اتحاد مكانهما و صلوتهما۔(الدر المختار،كتاب الصلوة،دارالفکر،ج:1،ص:550)


فتویٰ نمبر : 9341/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور