بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مجنون کے ہاتھ، پاؤں کاٹنے یا قتل کرنے کا حکم


سوال

ایک شخص کادماغی توازن صحیح نہیں ہےاللہ  اور رسول کو نہیں مانتا،قرآن مجید کی بے حرمتی کرتا ہے،اپنی ماں کو قتل کرنے کے درپےہے اور لوگوں کو بھی نقصان  پہنچاتا ہےتوکیا  ایسے  شخص کو معذور کرنا(ہاتھ،پاؤںکاٹنا ) یا قتل کرناصحیح ہے اگرنہیں توکوئی اور حل بتادیجئے۔

جواب

                      واضح رہے کہ شریعت مطہرہ کی رو سے جنون ان عوارض میں سےہےجس کےہوتے ہوئے بندہ شرعی کا احکام کا مکلف نہیں ہوتا۔

                      صورت مسئولہ میں  جس آدمی  کا دماغی توازن  درست نہ ہوتو اس کے ہاتھ، پاؤں کاٹنےیا قتل  کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں، تاہم اگراس سے دین یا لوگوں کونقصان پہچنے کااندیشہ ہو تواس کے لیے متبادل مناسب راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً :قید  وغیرہ

 

عن علي ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يحتلم، وعن المجنون حتى يعقل.(ابوداؤد، كتاب الحدود، باب فى المجنون يسرق أويصيب حداً،ج:2، ص: 605، الميزان)

ومن يّتهم بالقتل والسرقه وضرب النّاس أحبسه وأخلده فى السجن حتّى يتوب، لأنّ شرّهذاعلى النّاس.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الحدود، باب التعزير، ج:6، ص:127، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 5232/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور