بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
مستحق زکوٰۃ کے لیے زکوٰۃ کی رقم سے مکان بنانا
سوال
ہماری برادری میں صاحب نصاب افراد اپنی زکوۃ کی ادائیگی کے لیے اپنی ہی برادری میں سے مستحقین زکوٰۃ کی ضروریات میں سے مکان وغیرہ بنوانے کے لیے کمیٹی بناتے ہیں جو ان کے لیے زمین کی خریداری اور تعمیر کا خرچہ برداشت کرتی ہےتو کیا ایسی صورت میں اس مستحق زکوٰۃ کو یکمشت نصاب سے زیادہ رقم دینے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی یا اس کو ضرورت کے مطابق نصاب سے کم رقم حوالہ کی جائے؟
جواب
واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی جس طرح نقد رقم سے جائز ہے اسی طرح کسی اور جنس مثلا اشیاء استعمال،غذائی اجناس،کپڑے لباس وغیرہ سے یا مکان تعمیر کرکے مستحق زکو ۃ کو مالک بنانے سے بھی زکوۃ ادا ہو جاتی ہے ۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق برادری کے صاحب ِنصاب لوگو ں کا زکوۃ کی رقم اکٹھی کر کےمستحقِ زکوۃ رشتہ داروں کے لیے مکان بنانے کی تین صورتیں جائز ہو سکتی ہیں :
(1)کمیٹی تیا ر مکانات کو زکوۃ کی رقم سے خریدے اور مستحق کو تمام حقوق کے ساتھ مکان کا مالک بنا دے ۔
(2)کمیٹی اپنی ذاتی رقم سے مکانات تعمیر کر لے پھر زکوۃ کی رقم سے انہیں خرید کر مستحقین کو مالکانہ حقوق کے ساتھ حوالہ کر دے ۔
(3)کمیٹی مستحقین کو مال زکوۃ کا مالک بنا دے پھر ان کی رضامندی سے ان کے وکیل بن کر اس رقم کو مکانات بنانے میں خرچ کر دے ۔
فوری زکوۃ کی ادائیگی کے لیے تیسری صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ کمیٹی مستحق سے مال زکوۃ کی تملیک کرانے کے بعد اس کی رضامندی سے اس کے لیے مکان تعمیر کر دے اس طرح زکوۃ بھی فوری ادا ہو جائے گی او ر مستحق کوگھر بھی مل جائے گا ۔
أما الذي يرجع إلى المؤدى فمنها أن يكون مالا متقوما على الإطلاق سواء كان منصوصا عليه أو لا من جنس المال الذي وجبت فيه الزكاة أو من غير جنسه ۔(بدائع الصنائع ،كتاب الزكوة ،فصل فيما يرجع الى المؤدى،ج2/ص461)
ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا ) لا إباحة۔(الدر المختار،كتاب الزكوة ،باب المصرف،3/ص291)
ولو قضى دين حي فقير أن قضى بغير أمره لم يجز لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه وملكه من الغريم۔(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة،فصل فى ركن الزكوة،ج2 /ص457)