بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رشتہ داروں اور آفت زدگان میں سے بہتر مصر ف ِزکوۃ


سوال

اگر برادری کے افراد اپنی زکوۃ کی ادائیگی اپنی ہی برادری کے مسحقین پر کرتے ہوں تو ایسی صورت میں اگر قدرتی آفات پیش آجائیں تو زکوۃ کی رقم خرچ کرنے کے لیے اپنی برادری اور قدرتی آفات میں مبتلا افراد میں سے بہتر مصرف کون سا ہے ؟

جواب

            زکوۃ کی ادائیگی میں  افضل یہ ہے کہ اگر اپنے رشتہ داروں میں  کوئی ضرورت مند اور مستحقِ زکوۃ ہو تو اسی کو پہلے زکوۃدی جائے البتہ  اگر کہیں  اپنے  رشتہ داروں کے مقابلے میں کوئی اور زیادہ محتاج ہو مثلاً کسی جگہ قدرتی آفات سیلاب،زلزلہ وغیرہ پیش آجائے  توایسے معروضی  حالات میں  ان میں سے مستحق زکوۃ پر رقم کو خرچ کرناچاہیے۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق اگر برادری کے لوگ  اپنی زکوۃ کو اپنی ہی برادری کے مسحقین پر خرچ کر تے ہوں اور ایسی صورت  میں کسی علاقے کےلوگ قدرتی آفات کے شکار ہو جائیں  تو زکوۃ دینے والے کو معروضی حالات کا جائزہ لے کر زیادہ  ضرورت مند  مصرف کی تعیین  کرنی چاہیےچنانچہ رشتہ  داروں  اور متاثرین میں سے  جن  کو زیادہ ضرورت مند سمجھتا ہو ان  پر  زکوۃ کی رقم  خرچ  کرنا افضل ہو گا ۔

 

"(و) كره (نقلها إلا إلى قرابة) بل في الظهيرية لاتقبل صدقة الرجل وقرابته محاويج حتى يبدأ بهم فيسد حاجتهم (أو أحوج) أو أصلح أو أورع أو أنفع للمسلمين (أو من دار الحرب إلى دار الإسلام أو إلى طالب علم) وفي المعراج التصدق على العالم الفقير أفضل (أو إلى الزهاد أو كانت معجلة) قبل تمام الحول فلا يكره خلاصة.(رد المحتار علی الدر المختار،باب مصرف الزكوة و العشر ،ج:2،ص:353)

وعدم الكراهة في نقلها للقريب للجمع بين أجري الصدقة والصلة وللأحوج؛ لأن المقصود منها سد خلة المحتاج فمن كان أحوج كان أولى، وليس عدم الكراهة منحصرا في هاتين؛ لأنه لو نقلها إلى فقير في بلد آخر أورع وأصلح كما فعل معاذ - رضي الله عنه - لا يكره؛ ولهذا قيل: التصدق على العالم الفقير أفضل كذا في المعراج۔(االبحر الرائق، دفع الزكاة بتحر فبان أنه غني أو هاشمي أو كافر أو أبوه أو ابنه،ج:،ص:269)


فتویٰ نمبر : 9329/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور