بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
زکوۃ کی رقم تقسیم کرنے میں افضل طریقہ
سوال
ہماری برادری کے کچھ افراد جمع ہوکر اپنی برادری کے مستحق زکوٰۃ افراد کے لیے مکان بنانے میں زکوٰۃ کی رقم خرچ کرتے ہیں تو کیا زکوٰۃ کی رقم کو ایک فیملی کے مکان بنانے میں خرچ کرنا بہتر ہے یا متعدد افراد کی ضروریات،مثلا:بجلی کا بل،گھرکا کرایہ،علاج ومعالجہ وغیرہ میں خرچ کی جائے؟
جواب
زکوۃ دینے والے کو اس بات کا اختیار ہے کہ اپنی زکوۃ کی رقم ایک ہی مستحق فرد کو دے دے یا متعدد مستحقِ زکوۃ غریبوں میں تقسیم کردے البتہ کسی ایک شخص کو اتنی زکوۃ دینا جس سے وہ صاحب ِ نصاب ہو جائے مکروہ ہے،تاہم اگر کوئی مستحق ِزکوۃ قرض دار ہو یا اس کے اہل و عیال زیادہ ہوں یا اس کو کوئی اور ضرورت در پیش ہو جس کو پورا کرنے کے لیے زیادہ رقم کی ضرورت ہو تو اس کو مد نظر رکھ کر نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ رقم دی جا سکتی ہے۔
نیززکوۃ کی رقم خرچ کرنے میں افضلیت کا فیصلہ حالات اور اشخاص کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے، اگرزکوۃ دینے والا یہ سمجھتا ہو کہ کسی فیملی کے لیے مکان کی ضرورت زیادہ ہے توزکوۃ کی رقم سے اس کے لیے مکان کا بندوبست کرنا زیادہ افضل ہو گا اور اگر متعدد افراد کی ضرورت پوری کرنے کو زیادہ ضروری سمجھتا ہو تو پھر زکوۃکی رقم کو متعدد افراد میں تقسیم کرنا افضل ہوگا ۔
فهذه جهات الزكاة، وللمالك أن يدفع إلى كل واحد، وله أن يقتصر على صنف واحد، كذا في الهداية. وله أن يقتصر على شخص واحد، كذا في فتح القدير. والدفع إلى الواحد أفضل إذا لم يكن المدفوع نصاباً، كذا في الزاهدي. ويكره أن يدفع إلى رجل مائتي درهم فصاعداً، وإن دفعه جاز، كذا في الهداية. هذا إذا لم يكن الفقير مديوناً فإن كان مديوناً فدفع إليه مقدار ما لو قضى به دينه لايبقى له شيء أو يبقى دون المائتين لا بأس به، وكذا لو كان معيلاً جاز أن يعطى له مقدار ما لو وزع على عياله يصيب كل واحد منهم دون المائتين، كذا في فتاوى قاضي خان. وندب الإغناء عن السؤال في ذلك اليوم، كذا في التبيين۔( الفتاوى الهندية،الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:188)