بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

"چھوڑو پرے " کے جواب میں "ٹھیک ہے "کہنے کا نکاح پر اثر


سوال

علی کی بیوی نے کہا چاول ملتان سے لے کر آنا ،علی نے کہا جب ملتان سے آوں گا لیتا آوں گا، ابھی بھائی سے منگوا لو ،علی کی بیوی نے کہا "چھوڑو پرے"(علی کی بیوی کا مطلب تھا کہ چاول نہیں کھانے ) علی نے کہا ٹھیک ہے ،کیا علی کے نکاح پر فرق تو نہ پڑے گا ؟

جواب

              شریعت  مطہرہ کی رو سے طلاق کا اختیار مرد کو حاصل ہے،چنانچہ خاوند کے  اختیار دیے بغیر عورت اگر طلا ق  کے صریحی یا کنائی الفاظ کہے تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں  پڑتا۔

             صورت مسئولہ میں  بیوی کا یہ کہنا" چھوڑو پرے" سرائیکی زبان میں   کنائی الفاظ ہیں ، اس کے جواب میں شوہر نے   "ٹھیک ہے"کہاتو       اگر واقعۃً شوہر  کی طلاق کی نیت نہ تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔

 

" ولو قال اختاري فقالت قد اخترت نفسي ‌يقع ‌الطلاق إذا نوى الزوج " لأن كلامها مفسر وما نواه الزوج من محتملات كلامه.وقال الشافعي رحمه الله عدد الطلاق معتبر بحال الرجال لقوله عليه الصلاة والسلام " ‌الطلاق ‌بالرجال والعدة بالنساء " . . . وتأويل ما روى أن الإيقاع بالرجال.(الهدايه،كتاب الطلاق،باب تفويض الطلاق،فصل فى الاختيار،ج:3،ص:178،بشریٰ)

(‌قوله ‌وركنه ‌لفظ ‌مخصوص) ‌هو ‌ما ‌جعل ‌دلالة ‌على ‌معنى ‌الطلاق ‌من ‌صريح ‌أو ‌كناية۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار،کتاب الطلاق،باب فى ركن الطلاق،ج:4،ص:230،دارالكتب العلمیة،بيروت)

(کنایته) عند الفقهاء (مالم یوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغیره (ف) الکنایات (لاتطلق بها) قضاء (إلا بنیة،أو دلالة الحال).(الدر المختار على صدر ردالمحتار،کتاب الطلاق،باب الکنایات،ج:4،ص:526،دارالكتب العلمیة،بيروت)


فتویٰ نمبر : 6578/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور