بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
پاک قطر تکافل کا شرعی حکم
سوال
پاک قطر فیملی تکافل کا کیا حکم ہے؟بعض علماء اس کی مخالفت اور بعض حمایت میں ہیں اور اگر کوئی امام اس کے حق میں ہو یا وہ تکافل کے ساتھ امامت کرتا ہو اس کی اقتداء کا شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب
اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ عالمی معاشی نظام کا بیشتر حصہ غیر مسلموں کے ہاتھوں تکمیل شدہ ہے، اس لیے اس میں اسلامی اصولوں کی رعایت نہیں رکھی گئی ہے، جس کے نتیجے میں یہ نظام سود، قمار، غرر، اور بیع باطل وغیرہ کئی خرابیوں پر مشتمل ہے۔ چونکہ معیشت انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے ہے، اس لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے علماے کرام اس کے متبادل کے طور پر اسلامی معاشی نظام کی تشکیل کی کوششیں کر رہے ہیں اور الحمد للہ بہت حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں، چنانچہ روایتی بنک کے متبادل کے طور پر اسلامک بینکنگ، اور انشورنس کے متبادل کے طور پر تکافل انہی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم ہماری معلومات کی حد تک تکافل کے حوالے سے ابھی تک وہ معیاری سسٹم وجود میں نہیں آیا ہے جس کے بارے میں مکمل اعتماد کے ساتھ فتوی دیا جاسکے، اس لیے فی الحال ہماری رائے یہ ہے کہ جب تک کوئی قانونی ضرورت نہ ہو تو اس سے احتراز کیا جائے، تاہم جہاں کہیں انشورنس قانونی ضرورت ہو تو اس صورت میں عام انشورنس کی بجائے اسلامی تکافل کو ترجیح دینی چاہیے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی امام اس کی حمایت میں ہو یا تکافل کے ساتھ امامت کرتا ہو تو اس کی اقتدا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
عن عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات: كراع يرعى حول الحمى، يوشك أن يواقعه..." (صحيح البخاري، كتاب الأيمان، باب فضل من استبرأ لدينه، رقم الحديث:52، ج:1، ص:23)