بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حیلہ اسقاط کی شرعی حیثیت


سوال

ہمارے ہاں جب کوئی فوت ہوجاتا ہے تو جنازے کے بعد  کچھ رقم رکھ کر اسے دائرے میں کھڑے لوگوں کے درمیان پھیرا جاتا ہے اور بعد میں وہ رقم وہاں موجود لوگوں میں تقسیم کر دی جاتی ہے جسے اسقاط کا نام دیا جاتا ہے۔مہربانی فرماکر اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں آگاہ کریں ؟

جواب

                واضح رہے کہ حیلہ اسقاط کو بعض فقہاءکرام نے ایسے شخص کے لیےتجویز فرمایا تھا جس کی کچھ نمازیں اور روزے وغیرہ فوت ہو گئے ہوں پھر قضا کرنے کا موقع نہ ملا اور موت کے وقت فدیہ کی وصیت تو کی ہو لیکن مرحوم نے اتنا ترکہ نہ چھوڑا ہو جس کے ایک تہائی سےاس کی تمام فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کیا جا سکے ایسی صورت میں اگر ورثا صاحب استطاعت ہوں تو بہتر یہ ہے کہ اپنے مال سے مرحوم کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کردیں۔اور اگر ورثا کے پاس بھی گنجائش نہ ہو تو فقہا نے حیلہ اسقاط کی گنجائش ذکر کی ہے جس کی صورت یہ ہے کہ ورثا فدیہ کی نیت سے کچھ رقم کسی غریب ونادار مستحق زکوٰۃ کو دے کر اس کو اس رقم کا اس طرح مالک بنا دیں کہ اگر وہ مستحق رقم واپس کرنے کی بجائے خود استعمال کر لے تو ورثا کو کوئی اعتراض نہ ہو اور وہ مستحق شخص بھی یہ سمجھتا ہو کہ اگر میں یہ رقم مرحوم کے ورثا کو واپس نہ کروں تو انہیں واپس لینے کا اختیار نہیں ہے پھر وہ مستحق کسی قسم کے جبراور دباؤ کے بغیر اپنی خوشی سے وہ رقم ورثا کو واپس کردے اور پھرورثا اسی مستحق کو یا کسی اور مستحق کو اسی طرح مذکورہ طریقے کے مطابق وہ رقم دے دیں اور وہ پھراپنی خوش دلی سے انہیں واپس کردے اس طرح باربار ورثا یہ رقم کسی مستحق کو دیتے رہیں اور وہ اپنی خوشی ومرضی سے واپس کرتا رہے یہاں تک کہ مرحوم کی قضا شدہ نمازوں کے فدیہ کی مقدار ادا ہو جائے تو اس حیلے سے تھوڑی رقم سے سب نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا ہو جائے گا اور پھر وہ رقم سب سے آخر میں جس نادارومستحق شخص کو ملے گی وہی اس رقم کا مالک ہوگا اور اسے ہر طرح اس رقم کو خرچ کرنے کا اختیار ہوگا حاصل یہ ہے کہ اس مجوزہ حیلہ اسقاط میں جن شرائط کا پایا جانا ضروری ہے وہ درج ذیل ہیں:(1)اگر میت نے فوت شدہ نمازوں سے متعلق فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے حیلہ اسقاط کیا جائے گا۔(2) اگرمیت نے وصیت نہ کی ہو اور ورثا ترکہ سے حیلہ اسقاط کرنا چاہیں تو یہ ضروری ہے کہ تمام  ورثا بالغ ہو اور دل سے اس پر  راضی ہوں(3) اگر کوئی نابالغ وارث ہو تو اس کے حصے میں سےحیلہ اسقاط کی رقم نہ لی جائے بلکہ جو بالغ ورثا یہ حیلہ کرنا چاہتےہیں وہ اپنے اپنے حصوں سے ادا کریں۔(4)جس کو یہ مال دے رہے ہیں وہ مستحق ہو۔(5) اس مستحق فقیر کو اس مال کامالک بنا کر اس پر قبضہ و اختیار دیا جائے۔(6)جس فقیر کو دیا جائے وہ اپنی مرضی اور دلی رضامندی سے وہ مال میت کے ورثا کو ہبہ کرے اس پر کوئی زور زبردستی نہ کی جائے۔چنانچہ اگر محررہ طریقہ اور مذکورہ شرائط کی روشنی میں  حیلہ کیا جائے تو فقہاء کی تصریحات کے مطابق امید کی جاتی ہے کہ جان کی خلاصی کا ذریعہ بنے لیکن اس کو لازم جان کر بطور رسم و رواج ہرمردہ کے لیےحیلہ اسقاط کروانا زیادت علی الشرع کے مترادف ہے جس کی اجازت شریعت نہیں دیتی۔

 

(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطى (من ثلث ماله)ولو لم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث، ثم وثم حتى يتم. ۔۔۔ ثم ينبغي بعد تمام ذلك كله أن يتصدق على الفقراء بشيء من ذلك المال أو بما أوصى به الميت إن كان أوصى. (ردالمحتار على صدرالدرالمختار،كتاب الصلاة،باب قضاءالفوائت،ج:2/ص532)

إذا أراد أن يؤدي الفدية عن صوم أبيه أو صلاته وهوفقير،فإنه يعطي منوين من الحنطة فقيرا،ثم يستوهبه،ثم يعطيه هكذا إلى أن يتم۔ (الفتاوى الهندية،كتاب الحيل،الفصل الرابع فى الصوم،ج6/ص395، دارالفكر)

وإن لم يترك مالا تستقرض ورثته نصف صاع ويدفع إلى المسكين ثم يتصدق المسكين على بعض ورثته ثم يتصدق ثم وثم حتى يتم لكل صلاة ما ذكرنا ولو قضاها ورثته بأمره لايجوز وفى الحج يجوز۔(البحرالرائق،كتاب الصلاة،باب قضاءالفوئت،ج2/ص160)

 


فتویٰ نمبر : 5201/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور