بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
طلاق کے ساتھ ان شاءاللہ لکھنا
سوال
میری بیوی نے پہلے شوہرسے مار پیٹ کی وجہ سے خلع لیا تھا اور مجھ سے شادی کی۔ شادی کے چھ ماہ بعد مجھ سےبھی خلع کا مطالبہ کررہی تھی کیونکہ وہ امیر لڑکا چاہتی تھی اور میری مالی حالت اس وقت ٹھیک نہیں تھی تو اس وقت میں نے لکھ کر دیا کہ "میری طرف سےفلانہ بنت فلاں کو ان شاء اللہ طلاق ہے"اور میری نیت طلاق کی نہیں تھی بلکہ کچھ وقت کے لیے اس کا مطالبہ پورا کرنا تھا تو کیا یہ طلاق واقع ہو گئی ہے؟
جواب
زبان سے یا تحریری طور پر طلاق دیتے وقت اگر کوئی شخص متصلاً ان شاء اللہ کہہ دے یا لکھ دے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
لہذا صورت مسؤلہ میں مذکورہ جملہ " میری طرف سے فلانہ بنت فلاں کو ان شاء اللہ طلاق ہے" سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔
(قوله وإذا قال لامرأته: أنت طالق إن شاء الله إلخ) وكذا إذا قال: إن لم يشأ الله أو ما شاء الله أو فيما شاء الله أو إلا أن يشاء الله أو إن شاء الجن أو الحائط وكل من لم يوقف له على مشيئة لم يقع إذا كان متصلا فلا يفتقر إلى النية، حتى لو جرى على لسانه من غير قصد لا يقع. (فتح القدیر، کتاب الطلاق، فصل في الاستثناء، ج:4، ص:136)
(قال لها أنت طالق إن شاء الله متصلا) إلا لتنفس أو سعال أو جشاء أو عطاس أو ثقل لسان أو إمساك فم أو فاصل مفيد لتأكيد أو تكميل أو حد أو طلاق، أو نداء كأنت طالق يا زانية أو يا طالق إن شاء الله صح الاستثناء. (الدرالمختار مع ردالمحتار،كتاب الطلاق، باب التعليق، مطلب مسائل الاستثناء والمشيئة، ج:3، ص:366،367)