بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
زیادتی کرنے والے کے حق میں بددعا کرنے اور بدلہ لینے کا حکم
سوال
ہندہ بکرکی بیوی ہے اورزیدکی ماموں زادہے ہندہ نے زیدسے زنابالرضاکیا اوربعدمیں اسے اپنے خاوند(بکر)کو بتادیاکہ مجھ سے یہ کام ہواہے۔بکرنے ہندہ کی مارپیٹ کی ۔اوراسے اپنے گھرسے نہیں نکالا کیونکہ ان کے 4بچے ہیں ۔لیکن اس کے بعدبکرذہنی طورپر بہت پریشان ہے کیونکہ وہ اپنی بیوی ہندہ پربہت اعتبارتھااورمحبت کرتاہے۔بکرنے ہندہ سے کہا کہ اگرتم اپنے ماموں زاد سے ملی تو تم پر ایک طلاق۔بکرصوم صلوۃ کا پابندہے اوراللہ سے ڈرنے والا شخص ہے تاہم اب بکر مسلسل زیدہ کے لیے بدعاکررہاہے اوراس سے بدلہ لینے کی اوراسے سزادینے کی سوچ رہاہے ۔سوال یہ ہے کیابکرکا عمل صحیح ہے ؟ کیااس سے بکر حسد،کینہ اوربغض کا گناہ گآرتونہیں ہوگا؟ بکر اس بات کو بھولناچاہتاہے لیکن بہت کوشش کے بعدیہ بات نہیں بھول رہاہے۔برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں واضح جواب عنایت فرمادیں۔
جواب
واضح رہے کہ اگر کسی پر ظلم ہو جا ئے تو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھے، البتہ اگر وہ ظالم کے حق میں بددعا کرے تو شریعت میں اس کی گنجائش پائی جاتی ہے، لیکن جہاں تک بدلہ لینےکا تعلق ہے تو چونکہ زنا کے لیے شریعت میں حد مقررکی گئی ہے جس کے نفاذ کا اختیار صرف متعلقہ حکومتی اداروں کے پاس ہے، اس وجہ سے کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ ذاتی طور پرکسی سے بدلہ لے۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطا بق اگر کسی پر ظلم ہو جائے تو اس کے لیے ظالم کے حق میں بددعا دینے کی گنجائش ہے۔ جہاں تک بدلہ لینےکا تعلق ہے، تو اس کا اختیار صرف متعلہ حکومتی اداروں کے پاس ہے، کسی شخص کے لیے ذاتی طور پر کسی سے بدلہ لینے کی اجازت نہیں۔
قال اللہ تعالیٰ:﴿لَا يُحِبُّ ٱللَّهُ ٱلۡجَهۡرَ بِٱلسُّوٓءِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ إِلَّا مَن ظُلِمَۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا﴾(النساء،آیت148)
وقال ابن عباس وغيره: المباح لمن ظلم أن يدعو على من ظلمه، وإن صبر فهو خير له، (احکام القرآن،محمد بن احمد القرطبي، ج:3 ،ص:1)
وأما شرائط جواز إقامتها فمنها ما يعم الحدود كلها، ومنها ما يخص البعض دون البعض، أما الذي يعم الحدود كلها فهو الإمامة: وهو أن يكون المقيم للحد هو الإمام أو من ولاه الإمام وهذا عندنا،(بدائع الصنائع،ج :7،ص:57)