بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

افعال عمرہ کےبعد خود قصر کرنے سے پہلے دوسری عورت کاقصر کرنا


سوال

اگر کوئی عورت عمرہ کے تمام افعال ادا کرنے کے بعداپنے بالوں میں قصر کرنے سے پہلے کسی اور عورت کے بالوں میں قصر کرے تو اس پر دم واجب ہوتا ہے یا نہیں؟

جواب

             اگر کوئی  حج یا عمرہ کرنے والا مناسک حج یا افعال عمرہ سے فارغ ہوجائے صرف حلق یا قصر کرنا باقی ہو تو اس کا خود اپنا  یادوسرے کے بال کاٹنا  شرعا درست ہے اور اس سے دم لازم نہیں ہوتا۔

             لہذا صورت مسئولہ کے مطابق ایک عورت کا افعال عمرہ ادا کرنے کے بعد دوسری عورت کے بالوں میں قصر کرنے سے اس پر کوئی دم لازم نہیں ہوتا۔

 

"ولوحلق رأسه أو راس غیرہ من حلال أو محرم جازله الحلق لم یلزمھما شیٔ۔(غنيةالناسک،ص253)
(واذا حلق) ای المحرم (رأسه) ای رأس نفسه(أو رأس غیرہ) ای ولو کان محرما (عند جواز التحلل) ای الخروج من الاحرام بأداء أفعال النسک (لم یلزمه شیٔ) الاولی لم یلزمھما شیٔ وھذا حکم یعم کل محرم فی کل وقت".(ارشاد الساري الی المناسك لملا علی القاری،ص: 174)


فتویٰ نمبر : 9305/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور