بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
گذشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کرنا
سوال
ہماراچچازاد بھائيوں کے ساتھ شریک کاروبار ہے 28 سال پورے ہوئے ہيں 13 سال پہلے سرمایہ 7 لاکھ روپے تھااور اب کل سرمایہ 30 لاكھ روپے ہے اب معلوم کرنا ہے کہ ہم زکاةکیسے ادا کريں مطلب 13 سال کا الگ اور باقی 15 سال کا الگ ادا کرنا ہے یا کیا طریقہ کار ہوگا ؟
جواب
مشترکہ کاروبار میں جب ہر شریک کا حصہ بہ قدر نصاب ہو، یا اس کے پاس دوسرے موجود اموال جیسے نقدی ، سونا، چاندی یا مال تجارت کے ساتھ مل کر بہ قدر نصاب بنتا ہو تو زکاة واجب ہوگی ورنہ نہیں ۔
صاحب نصاب بن جانے کے بعد اگر زکوة ادا نہیں کی تو گزشتہ سالوں کی زکوة بھی ادا کرنا واجب ہے، گذشتہ جن سالوں کی زکاۃ نکالنی ہے ان میں سب سے پہلے سال جس قدر سونا ،چاندی ،نقد روپے اور مال تجارت ہر شریک کے پاس موجود تھا اس کا اندازہ لگاکر ان کی قیمت کا ڈھائی فیصد زکاۃ کا حساب لگا لیا جائے ،پھر اس کے بعد کے سال میں اس ڈھائی فیصد کو کم کرنے کے بعد جس قدر مال ہو اس کی زکاۃ کا حساب لگایا جائے،اسی طرح ہر سال کا حساب لگایاجائے اور پھر مجموعہ زکوۃ ادا کردی جائے۔
وأما وجوب الزكاة فمتعلق بالنصاب إذ الواجب جزء من النصاب، واستحقاق جزء من النصاب يوجب النصاب إذ المستحق كالمصروف … وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة، وعند زفر يؤدي زكاة سنتين، وكذا هذا في مال التجارة، وكذا في السوائم الخ”. (بدائع الصنائع، کتاب الزکوۃ،ج:2،ص:7)
ولو کان الدین علی مقر او علی معسر ۔۔إلی فو صل إلی ملکه لزم زکوٰۃ ما مضي.(الدر المختار،ج:2،ص:266)
قوله: ”وإن تعدد النصاب“: أي: بحیث یبلغ قبل الضم مال کل واحد بانفرادہ نصابًا فإنه یجب حینئذ علی کل منهما زکاة نصابه (رد المحتار، کتاب الزکاة، باب زکاة المال،ج:3،ص: 236)