بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
نومسلم کے اسلام کی تصدیق
سوال
نومسلم بچیوں سے اسلام اورمسلمانوں کارویہ کیا ہونا چاہیے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں تاکہ مسلمان گھرانوں کوان سے رشتہ جوڑنے میں مطمئن کیا جاسکے،نیزمسلمان ہونے كے بعد کتنے وقت تک انتظار کر کے ان كے كامل مسلمان ہونے کا یقین کر لینا چاہیے جس کے بعدان کی شادی بیاہ کے معاملات طے کیے جائیں؟
جواب
اسلام میں داخل ہونے سے حالتِ کفر کے تمام گناہ ختم ہو جاتے ہیں اور اسلام قبول کرنے والا دیگرمسلمانوں کے ساتھ حقوق میں برابر ہو جاتا ہے۔ عام مسلمان کو حقِ حیات ، حقِ ازدواج اور حقِ کاروبار وغیرہ جس طور پر حاصل ہے اسی طرح ایک نو مسلم بھی اسلام قبول کرنے سے تمام تر حقوق کا مالک بن جاتا ہے نیز کسی کے ظاہری مسلمان ہو جانے کے بعد اسے مسلمان ہی سمجھا جائے گا اس کے دل کی حالت معلوم کرنے کے ہم مکلف نہیں لہذا ظاہر میں مسلمان ہونے والے کو مسلمان ہی سمجھا جائے ۔
صورت مسئولہ میں نومسلم بچیوں سے دیگر مسلمانوں جیسا رویہ ہی رکھنا لازمی ہوگا بلکہ نومسلم ہونے کی حیثیت سے اگر ان کا زیادہ خیال رکھا جائے تو بہتر ہے تاکہ مسلمانوں کے اخلاق سے متاثر ہو کر وہ اسلام میں مزید پختہ ہو سکیں تاہم ان کی شادی بیاہ کے معاملات میں جو رشتہ کرنا چاہے اس کا دل اگرنو مسلم کے اسلام سے مطمئن ہو تو شکوک و شبہات سے بچتے ہوئے کسی نومسلم بچی کو آباد کرنے میں کوئی قباحت نہیں بلکہ ایسا کرنا افضل ہے تاکہ دوبارہ قادیانیت کی طرف جانے کی راہ مکمل بند ہو سکے۔
عن أبي ظبيان، حدثنا أسامة بن زيد، قال: بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية إلى الحرقات فنذروا بنا فهربوا فأدركنا رجلا، فلما غشيناه قال: لا إله إلا الله، فضربناه حتى قتلناه فذكرته للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: من لك بلا إله إلا الله يوم القيامة؟ . فقلت: يا رسول الله، إنما قالها مخافة السلاح. قال: أفلا شققت عن قلبه حتى تعلم من أجل ذلك قالها أم لا؟ من لك بلا إله إلا الله يوم القيامة؟ فما زال يقولها حتى وددت أني لم أسلم إلا يومئذ. (سنن أبي داؤد، كتاب الجهاد، باب على ما يقاتل المشركون، ج:3، ص:44 رقم الحديث:2643)
فإن ارتد وتاب ثم ارتد تقبل توبته وهكذا دائما لأنا نحكم بالظاهر وكان -عليه الصلاة والسلام- يقبل ظاهر الإسلام من المنافقين وقال -عليه الصلاة والسلام- لمن قتل شخصا بعدما أسلم هلا شققت قلبه. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب السير، باب المرتدين، ج:3، ص:284)