بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
نومسلموں کی کفالت اور ان سے حسن سلوک
سوال
قادیانیوں میں سے جو اسلام قبول کر لیں، جس کی وجہ سے ان سے بسا اوقات گھر بار سب چھین لیا جاتا ہے۔ ایسے نومسلموں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے؟ نیز ان نو مسلموں کی کفالت زکوۃ کے مال میں سے کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اسلام قبول کرنے والا نو مسلم پرانے مسلمان ہی کی طرح قابلِ صد احترام ہے اور اسلام قبول کر لینے کے بعد وہ اسلامی اخوت کا حقدار ہے۔ مسلمانوں کے لیے نومسلموں کا بھر پور خیال رکھنا لازمی ہے تاکہ ان کی دلجوئی ہوسکے اور وہ اسلام میں مزید پختہ ہو سکیں۔ جس طرح اپنے پرانے مسلمان ساتھیوں کی دل آزاری جائز نہیں اسی طرح نو مسلموں سے ایسی گفتگو یا ایسا رویہ اختیار کرنا جس سے ان کی دل آزاری ہو یہ بھی جائز نہیں۔ نیز اگر ان کی مال و دولت چھین لی گئی ہو اور وہ محتاج و مستحق ِ زکوۃ بن چکے ہوں تو ان پر زکوۃ خرچ کرنا جائز ہوگا۔
قال رحمه الله: " الأصل فيه قوله تعالى: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ} [التوبة: 60] الآية فهذه ثمانية أصناف وقد سقط منها المؤلفة قلوبهم لأن الله تعالى أعز الإسلام وأغنى عنهم وعلى ذلك انعقد الإجماع. ( الهداية، كتاب الزكوة، باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز، ج:1، ص:110)