بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کسی کے ذمہ لازم رقم زکوۃ شمار کرنا


سوال

 ایک شخص نے مکان خریدا اور فروخت کرتے وقت اس کو یہ نہیں بتایا گیا کہ اس گھر پر لون(Loan) لے رکھا ہے جو ابھی تک ادا نہیں کیا۔ اب جب اس کے دھوکے کا پتہ چلا ہے تو اس کی ایسی حالت نہیں ہے کہ اس سے دوبارہ گھر کی رقم واپس لی جاسکے۔ کیا اسے دی ہوئی رقم زکوۃ میں حساب کی جاسکتی ہے؟

جواب

            زکوۃکی ادائیگی میں تملیک یعنی مستحق کو مالک بنانا شرط ہے، کسی کے ذمہ رقم معاف کرنے میں تملیک نہیں پائی جاتی، اس لیے اس طرح زکوۃ ادا نہیں ہوتی۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ پہلے اپنی طرف سے بطور زکوۃ کچھ رقم اسے دے کر اس کا مالک بنادیا جائے، پھر وہ رقم اس سے قرض میں وصول کر لی جائے تو اس صورت میں زکوۃ بھی ادا ہو جائے گی اور قرض بھی وصول ہو جائے گا۔

            صورت مسؤلہ میں جس شخص نے گھر خریدا ہے اور اسے لون(Loan) کا نہیں بتایا گیا، اب اگر وہ گھر واپس کر کے اپنی رقم واپس لینا چاہتا ہے لیکن بیچنے والا رقم واپس نہیں کر سکتا تو یہ رقم زکوۃ میں حساب نہیں کی جاسکتی البتہ اگر وہ مستحق زکوۃ ہو اور اپنی طرف سے اسے زکوۃ کی رقم دے دی جائے اور پھر وہ شخص اسےقرض کی واپسی کے طور پر ادا کر دے تو زکوۃ ادا ہو جائے گی اور قرض بھی وصول ہو جائے گا۔

 

أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:188)

وإن كان المديون فقيراً فوهب الدين ينوي به زكاة مال عين عند الواهب لا تسقط عنه زكاة۔ (فتاوى قاضي خان، كتاب الزكوة، فصل في هبة الدين من المديون بنية الزكاة، ج:1، ص:162)


فتویٰ نمبر : 9314/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور