بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ادائیگی زکوٰۃ میں قیمت فروخت کا اعتبار
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ تاجر زکوٰۃ کس حساب سے دے گا ،خرید کی قیمت سے یا فروخت کی قیمت سے۔اور اگر فروخت کی قیمت سے تو ایک چیز مختلف افراد کو مختلف قیمتوں سے دی جاتی ہے، اس میں کس قیمت کااعتبار ہوگا؟
جواب
واضح رہےکہ اموالِ تجارت میں زکوۃ کی ادائیگی کےلیے ان کی مالیت معلوم کرنےمیں قیمتِ فروخت کااعتبار ہوتاہے، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مختلف اشخاص کے لیے قیمت میں تبدیلی آتی رہتی ہے ،جس کی وجہ سے قیمتِ فروخت متعین نہیں ہوسکتی ،تو اس صورت میں ان اموال کی مارکیٹ میں جو اوسط قیمتِ فروخت لگتی ہے،اس قیمت کا اعتبار ہوگا۔لہٰذاصورتِ مسئولہ میں اگرکسی کےپاس اموالِ تجارت ہوں اور وہ اسے مختلف قیمتوں پر فروخت کرتا ہو تو ایسی صورت میں مارکیٹ کی اوسط قیمتِ فروخت کے مطابق زکوٰۃ ادا کرے گا۔
(قوله يقومها)أي المالك في البلد الذي فيه المال حتى لو كان بعث عند التجارة إلى بلد أخرى لحاجة فحال الحول يعتبر قيمته في ذلك البلد۔(فتح القدیر ،کتاب الزکوۃ،فصل فی العروض،ج2ص227)
ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه۔(ردالمحتار علی الدر المختار، كتاب الزكوة ، باب زكوة المال ، ج:3 ص: 229)