بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دیوالی کی مٹھائی کھانا


سوال

دیوالی کی مٹھائی کھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

           دیوالی کے موقع پر ہندوؤں کی جانب سے دی گئی مٹھائی وغیرہ کے متعلق اگر یہ یقین ہو کہ انہوں نے اپنے باطل معبودوں کے نام پر نہیں  چڑھائی ہے اور نہ ہی اس میں کسی حرام و ناپاک چیز کی آمیزش ہے، تو اس کے کھانے کی گنجائش ہے،لیکن پھر بھی تہوار وغیرہ کے مواقع پر نہ لینا ہی افضل ہے،اس لیے کہ اس میں کافروں سے مشابہت اور ان کے کفر و شرک سے رضامندی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور ان کی طرف دلی میلان پیداہوتا ہے،لہٰذاایسے مواقع پر ان کے ہدایا کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔

 

وما أهل لغير الله به فإن ظاهره يقتضي تحريم ما سمي عليه غير الله ۔۔۔فينتظم ذلك تحريم ما سمي عليه الأوثان ۔(أحكام القرآن للجصاص،المائدة:3)

الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما الدوام عليه فيكره كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الرابع عشرفى اهل الذمة۔۔۔ ، ج:5،ص:401)

والأولى للمسلمين أن لا يوافقوهم على مثل هذه الأحوال لإظهار الفرح والسرور۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الخنثی،مسائل شتی،ج:10،ص:486)


فتویٰ نمبر : 5181/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور