بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
بیوی کوطلاق کی نیت سےوالدین کےگھرپرچھوڑنا
سوال
اگر خاوند اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کی نیت سے اسےاپنے بھائی کے گھر پر چھوڑ کر واپس چلا گیا اور طلاق دینے کی بات گاؤں کے مشران کے سامنے ظاہر کی اور بات سے معلوم ہو گياکہ یہ خاوند اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینا چاہتاہےاور پہلی بیوی کو کھانے پینے کا سامان نہیں دےگا اور دوبارہ پہلی بیوی کو نہیں مانگ کے آئیگا تو اس سے پہلی بیوی کو طلاق ہوگی یا نہیں ۔ اگر ہو گئی تو دوسری جگہ شادی کر سکتا ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک طلاق کےصریحی یاکنائی الفاظ نہ کہےہوں۔
لہذا صورت مسئولہ کےمطابق اگر مذکورہ شخص نےطلاق کےصریحی یاکنائی الفاظ زبانی یاتحریری طورپرادانہ کئےہوں صرف طلاق دینےکےارادےکااظہارکرچکاہوتومحض اس سےطلاق واقع نہ ہوگی،نیزمردکودوسری شادی کااختیارہےپہلی بیوی کےہوتےہوئےبھی وہ دوسری شادی کرسکتاہے۔
قال اللہ تعالی:فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً۔(النساء:3)
(رفع قيد النكاح في الحال ) بالبائن ( أو المآل ) بالرجعي ( بلفظ مخصوص ) هو ما اشتمل على الطلاق۔(الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الطلاق،ج:4،ص:423)