بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

چندےمیں مصرف کاذکرکرنا


سوال

 ہمارا ایک مکتب چل رہا ہے اس مکتب میں تقریبا اسی(80)طلبہ زیر تعلیم ہیں انہیں ہفتہ میں ایک دو مرتبہ ناشتہ کھلایا جاتا ہے سوال یہ ہے کہ چندہ کرنے میں  ناشتےکااعلان کرنا ضروری ہے یا نہیں اور یہاں پر زکوۃکی رقم دےسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

               واضح رہے کہ  شرعا زکوۃ اور صدقات واجبہ کی ادائیگی میں تملیک شرط ہے ،تملیک کے بغیر زکوۃ اور صدقات واجبہ کی ادائیگی درست  نہیں ہوتی اور نہ ہی زکوۃ دہندگان کی  ذمہ داری فارغ ہوتی ہے ۔

             صورت مسئولہ میں  محض کھانا کھلانے سے زکوۃ کی رقوم میں  تملیک کی ذمہ داری پوری نہیں ہوتی ۔البتہ مستحق طلبہ سےتملیک کرانے کے بعد اگروہ اپنی مرضی سےمکتب میں جمع کردیں توتب یہ رقوم کھانا کھلانے میں خرچ کی جا سکتی ہیں۔اورچندہ اگرزکوۃ میں سےہوتوتملیک کرانےکےبعدوضاحت ضروری نہیں،اوراگرزکوۃ کےعلاوہ دیگرعطیات میں سےہوتواس میں دینےوالےاگرمکتب کےذمہ دارکوخرچ میں اختیاردیتےہوں تووضاحت کی ضرورت نہیں،اوراگروہ صرف کسی مخصوص مقصدکےلیےدیں توپھراسی میں خرچ کرناضروری ہے۔

 

وَأَمَّا رُكْنُ الزَّكَاةِ  فَرُكْنُ الزَّكَاةِ هو إخْرَاجُ جُزْءٍ من النِّصَابِ إلَى اللَّهِ تَعَالَى وَتَسْلِيمُ ذلك إلَيْهِ يَقْطَعُ الْمَالِكُ يَدَهُ عنه بِتَمْلِيكِهِ من الْفَقِيرِ وَتَسْلِيمِهِ إلَيْهِ۔(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة،ج:2،ص:39)

وشرعا تمليك خرج الإباحة فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الزکوۃ،ج:2،ص:257)


فتویٰ نمبر : 9306/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور