بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ایان نام رکھنا


سوال

ایان  نام رکھنا شرعا کیسا ہے؟

جواب

            "ایان "اردو زبان کا لفظ نہیں  ، جبکہ   الف کے زبر  اور یا کی تشدید کے ساتھ عربی  زبان کا لفظ ہے ،جو شرط اور ظرف کے لیے استعمال ہوتا ہےجس کے معنی" جب "اور"  کب " کے آتے ہیں یہ لفظ  کسی چیز کے واقع ہونے کے زمانے کے بارے میں  سوال  کے لیے استعمال ہوتا ہے،اس لحاظ سے ایان کوئی با معنی لفظ نہیں ہے  اس لیےبہتر یہ ہے کہ بچے پر یہ نام  نہ رکھا جائے   ، بلکہ اس کی جگہ  پر عبد اللہ یا عبد الرحمن وغیرہ    نام رکھا جائے، تاہم اگر کسی کا " ایان"نام رکھ لیاہو   اور بدلنے  میں دشواری ہو تو اس کو برقرار رکھ سکتے  ہیں ۔  

 

أحب الأسماء إلى الله تعالى عبد الله وعبد الرحمن ۔۔۔ والتسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة لأنه ۔۔۔وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل۔(الفتاوی الهندية،كتاب الكراهية، الباب الثاني والعشرون في تسميته الاولاد،ج:5،ص:362)

(أيان) ظرف للزمن المستقبل نحو أيان يبعثون و تجيء للشرط نحو أيان نؤمنك تامن غير نا إذا لم تدرك الأمن منا لم تزل حذرا۔(المعجم الوسيط ،ج:1،ص:55)


فتویٰ نمبر : 5154/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور